بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جہاں نوجوان، بزرگ، خواتین اور اسکول جانے کی عمر کے بچے بھی اس مسئلے کا شکار بن رہے ہیں۔
گزشتہ شب کوئٹہ کے علاقے قمبرانی سے 13 سالہ گہرام ولد فیض محمد کو فرنٹیئر کور (ایف سی) اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے جبری گمشدگی کا نشانہ کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک کمسن بچے کے ساتھ اس قسم کا سلوک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
بلوچستان میں اس طرح کی جبری گمشدگیوں کے متعدد واقعات گزشتہ برسوں میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات کی فہرست میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
















































