وینزویلا میں بحران شدت اختیار کر گیا، صدر اور اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت طلب۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے جاری پریس کانفرنس اور سوشل میڈیا بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا میں ایک بڑے پیمانے پر منظم فوجی آپریشن کے تحت صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر لیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر گرفتار وینزویلا صدر کی ایک تصویر بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کی ہے۔
پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے خلاف یہ کارروائی کئی ماہ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی اور اس میں امریکی فوج اور خفیہ اداروں نے انتہائی مہارت کے ساتھ حصہ لیا۔
ان کے مطابق امریکی فورسز نے محدود وقت میں اپنے اہداف حاصل کیے اور کسی بڑے نقصان کے بغیر آپریشن مکمل کیا۔
جاری پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے وینزویلا سے باہر منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات پر قانونی کارروائی کی جائے گی، ٹرمپ کے مطابق مادورو کو امریکی عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نکولس مادورو اور سیلیا فلوریس کو امریکی فورسز نے ان کے بیڈ روم سے گرفتار کیا، تاہم ان دعوؤں کی تاحال آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب وینزویلا میں شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے، وینزویلا کے نائب صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔
نائب صدر نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت فوری طور پر فراہم کیا جائے۔
وینزویلا کی حکومت نے امریکی کارروائی کو ملک کی خودمختاری پر کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے، حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی دعوے درست ہیں تو یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دوسری طرف وینزویلا کے دارلحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں بے چینی اور خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
صدر مادورو کے حامی حلقوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی صدر کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ لاطینی امریکہ کی تاریخ میں امریکی مداخلت کا ایک غیر معمولی اور خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس وقت تک صدر نکولس مادورو کی گرفتاری، مقام اور قانونی حیثیت سے متعلق صورتحال غیر واضح اور متنازعہ بنی ہوئی ہے۔


















































