بلوچستان لبریشن فرنٹ “بی ایل ایف” نے جنوری تا دسمبر 2025 کے دوران بلوچستان بھر میں کی جانے والی 581 مسلح کارروائیوں کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جن کے نتیجے میں 929 پاکستانی فورسز اہلکاروں کو جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا، ان میں 647 ہلاکتیں اور 282 زخمی شامل ہیں۔
بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ کے مطابق جنوری تا دسمبر 2025 کا عرصہ بلوچستان میں جاری قومی مزاحمتی جدوجہد کے لیے ایک فیصلہ کن اور غیر معمولی سال ثابت ہوا، اس دوران مزاحمت نے محض وقتی یا ردِعمل کی سطح پر سرگرمیوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک منظم، ہمہ جہت اور طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت تنظیمی کارروائیوں کو آگے بڑھایا۔
سال 2025 کے دوران بلوچستان بھر میں بی ایل ایف کی جانب سے مجموعی طور پر 581 مسلح کارروائیاں انجام دی گئیں، ان کارروائیوں کا دائرہ ساحلی علاقوں، شہری مراکز، شاہراہوں، پہاڑی خطوں اور دور دراز علاقوں تک پھیلا رہا۔
ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں ریاستی عسکری ڈھانچے، سیکیورٹی فورسز، نگرانی کے نظام اور معاشی مفادات کو نشانہ بنانے کی ایک مربوط حکمتِ عملی کا حصہ تھیں۔
ان کارروائیوں کے نتیجے میں ریاستی فورسز اور ان سے وابستہ نیٹ ورکس کو نمایاں جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
میجر گہرام بلوچ کے مطابق سال کے دوران مجموعی طور پر 929 دشمن کو جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا، جس میں 647 اہلکار ہلاک اور 282 زخمی ہوئے، ان ہلاکتوں میں پولیس، انٹیلیجنس نیٹ ورک، کوسٹ گارڈ، اسپیشل فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ سے وابستہ افراد شامل تھے۔
ان کے مطابق یہ ہلاکتیں مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں، گھات حملوں اور براہِ راست تصادم کا نتیجہ تھیں۔
سال 2025 کے دوران زخمی ہونے والوں کی تفصیلات کے مطابق فوج اور ایف سی کے 282 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ انٹیلیجنس نیٹ ورک کے 8 اہلکار، پولیس کے 4 اہلکار، ڈیتھ اسکواڈ سے وابستہ 30 افراد اور کوسٹ گارڈ کے 10 اہلکار بھی زخمی ہوئے، یہ اعداد و شمار ریاستی فورسز پر مسلسل دباؤ اور شکست کی علامت قرار دیے گئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ تنظیم نے ریاستی رِٹ سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا 33 سے زائد پولیس اور لیویز چوکیاں یا تھانے مختلف مواقع پر عارضی قبضے اور حملوں کی زد میں آئے، جبکہ 2 ایف سی چیک پوسٹس اور 5 کسٹم کیمپ بھی نشانہ بنائے گئے، ان کارروائیوں کو تنظیم کے کنٹرول کے دعوؤں کے لیے عملی ثبوت قرار دیا گیا ہے۔
بی ایل ایف کی کارروائیوں کی نوعیت کی تفصیل کے مطابق سال کے دوران 36 گھات حملے، 33 دستی بم حملے، 13 آئی ای ڈی دھماکے اور 33 اسنائپر حملے انجام دیے گئے اس کے علاوہ 7 انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں بھی کی گئیں۔
بھاری ہتھیاروں، راکٹ اور ایل ایم جی سے 163 حملے کیے گئے، جبکہ چھوٹے ہتھیاروں کے ذریعے مختلف مواقع پر 28 گرینیڈ لانچر حملے اور 33 دستی بم حملے کیے گئے اس دوران تنظیم نے ایک بینک اور ایک پل کو بھی نشانہ بنایا۔
میجر گہرام بلوچ نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران 17 فوجی گاڑیاں تباہ یا ناکارہ بنائی گئیں، جن میں 2 بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں، 15 سے زائد بلڈوزرز اور تعمیراتی مشینری کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ 67 سے زائد گاڑیاں، جو گیس، معدنیات اور فوجی راشن کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہی تھیں، تباہ کی گئیں۔ اس کے علاوہ پولیس کی 3 گاڑیاں، 6 ٹرک اور 4 ٹریکٹر ٹرالیاں بھی نقصان کا شکار ہوئیں۔
نگرانی اور اطلاعاتی نظام سے منسلک 26 جاسوسی ٹاورز تباہ کیے گئے، 15 سرویلنس کیمرے ناکارہ بنائے گئے اور 10 کواڈ کاپٹرز کو نشانہ بنایا گیا ان اقدامات کا مقصد ریاستی نگرانی، معلوماتی کنٹرول اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔
میجر گہرام بلوچ کے مطابق سال 2025 کے دوران تنظیم نے محدود کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک آپریشنز بھی انجام دیے، ان آپریشنز میں آپریشن بام شامل ہے، جس کے تحت بلوچستان بھر میں فوج اور اس سے وابستہ معاشی مفادات کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سدو آپریشن بٹالین نے نوکنڈی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک مہلک حملے میں نشانہ بنایا، ان کے مطابق یہ کارروائیاں تنظیم کی طویل المدتی عسکری حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد محض فوری نقصان نہیں بلکہ مخصوص علاقوں میں ریاستی عسکری دباؤ، نقل و حرکت اور کنٹرول کو چیلنج کرنا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابلاغی اور نظریاتی محاذ پر تنظیم نے سال کے دوران اسپر میگزین کے 12 شمارے اور سرمچار میگزین کے 3 شمارے شائع کیے، جنہیں تنظیم نے فکری، نظریاتی اور معلوماتی جدوجہد کا حصہ قرار دیا۔
ترجمان نے آخر میں کہا کہ جنوری تا دسمبر 2025 کے دوران کی جانے والی تمام کارروائیاں مزاحمتی جدوجہد کی شدت، وسعت اور تنظیمی ارتقا کو ظاہر کرتی ہیں، ان کے مطابق 2025 کا سال مستقبل کی حکمتِ عملی، تنظیمی فیصلوں اور مزاحمتی سمت کے تعین کے لیے ایک اہم حوالہ بنے گا، جبکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے نئے سال میں جدوجہد کو مختلف محاذوں پر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
















































