وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں زور دار دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات کے بعد ملک میں شدید سیاسی اور عسکری بحران پیدا ہوگیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور سی بی ایس نیوز کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کراکس اور اس کے مضافاتی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کی ہے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یے آپریشن امریکی قانون کے تحت کیا گیا، مادورو کو منشیات اسمگلنگ، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کا سامنا کرنا ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نکولس مادورو کے خلاف امریکہ میں باقاعدہ عدالتی کارروائی کی جائے گی اور انہیں امریکی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ان کے مطابق یہ کارروائی وینزویلا میں “جمہوریت کی بحالی” کے لیے ضروری تھی۔
تاہم رائٹرز اور دیگر معتبر اداروں کے مطابق صدر مادورو کی گرفتاری کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
بی بی سی اور سی این این سمیت بڑے عالمی میڈیا اداروں نے بھی مادورو کی گرفتاری یا انہیں وینزویلا سے منتقل کیے جانے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کی حکومت نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اس کارروائی کو ملک کی خودمختاری پر کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
وینزویلا کے حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی زندگی کا فوری ثبوت فراہم کیا جائے، جبکہ امریکی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
کراکس سمیت وینزویلا کے مختلف شہروں میں شدید بدامنی دیکھی جارہی ہے، جہاں صدر مادورو کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
متعدد علاقوں میں سیکیورٹی فورسز تعینات کردی گئی ہیں اور عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم اقوامِ متحدہ، روس، چین اور یورپی یونین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مشترکہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ لاطینی امریکہ کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا، تاہم موجودہ صورتحال میں صدر مادورو کی حیثیت اور مقام سے متعلق معلومات غیر واضح اور متنازعہ ہیں۔

















































