آزادی، مزاحمت اور خود احتسابی
(ایک تنقیدی نگاہ)
تحریر: وطن زاد
دی بلوچستان پوسٹ
جدوجہدِ آزادی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک مستقل فکری درس ہے جو ہمیں ایثار، قربانی اور اجتماعی شعور کی اہمیت سکھاتا ہے۔ قومیں اسی وقت سرخرو ہوتی ہیں جب ان کے افراد اپنی ذات سے بلند ہو کر قوم کے بہتر مستقبل کے لیے سوچتے اور عمل کرتے ہیں۔
تاریخ میں گوریلا جدوجہد نے کئی طاقتور سامراجی قوتوں کو شکست دی، برصغیر، افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں آزادی کی تحریکیں گوریلا جنگ کے ذریعے کامیاب ہوئی تھیں۔ ان تحریکوں میں قربانی، صبر اور طویل مزاحمت بنیادی عناصر تھے۔ گوریلا جدوجہد صرف ہتھیاروں کی جنگ نہیں بلکہ یہ نظریے، حوصلے اور قومی شعور کی جنگ ہے۔
گوریلا جدوجہد میں نظم و ضبط اور اخلاقی حدود کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ کامیاب گوریلا تحریکیں ہمیشہ عام شہریوں کے تحفظ کو مقدم رکھتی ہیں اور قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتی ہیں۔ اگر گوریلا جدوجہد بے لگام تشدد میں بدل جائے تو وہ اپنے مقدس مقصد سے ہٹ جاتی ہے اور سماجی حمایت بھی کھو بیٹھتی ہے۔
آج کے دور میں گوریلا جدوجہد کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے، جدید ٹیکنالوجی، میڈیا اور اطلاعاتی جنگ نے اس جدوجہد کو نئے انداز دیے ہیں تاہم اس کے بنیادی اصول، عوامی حمایت، قربانی، تنظیم اور مقصد سے وابستگی اب بھی وہی ہے۔
بلوچ قومی تحریک آزادی ماضی میں اک طویل مدت تک اندرونی مسائل کا شکار رہی، آپس کی رنجشیں، ذاتی مفادات، قبائلی تناظر میں قومی جدوجہد آزادی کو پرکھنا، تنظیم کاری کا فقدان، کوئی واضح قیادت اور مربوط حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے اس تحریک نے صرف اور صرف نقصان ہی اٹھایا – ہمارے کافی قیمتی ساتھیوں نے آپسی رنجشوں سے مایوس ہوکر اس مقدس جنگ سے راہ فرار اختیار کر لیا، جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
یہ جنگ ہم نے اپنے آنے والی نسل کو وراثت کے طور پر تحفے میں نہیں دینا ہے بلکہ اس تحریک کو یہی نسل مضبوط و منظم بنا کر پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتی ہے۔ ہم کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ ہماری آنے والی نسلیں اس جنگ کی متحمل ہوں۔ آج اگر ہم اپنی نوجوان اور باصلاحیت نسل کو اس مقدس راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کررہے تو اس کی ایک خاص وجہ ہمارا عظیم مقصد، اصولِ آزادی ہے۔
یہ تحریک اگرچہ مختلف مورچوں سے لڑی جارہی ہے مگر بلوچ راجی آجوئی سنگر کے سائے میں پوری قوم کی نظر آپ پر ہے۔ اندرونی مسائل سے ہم روگردانی نہیں کرسکتے، دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے ایسے واقعات سے، اسی لیے تو گوریلا جنگ کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ بیچ میں آپس کی رنجشیں جنم نہ لے سکیں۔
تاہم فطری طور پر سیاسی حوالے سے اختلافات سنگین رخ اختیار کر لیتے ہیں تو بہ حیثیت سیاسی کارکن اختلاف رائے رکھنے کا حق سب کو حاصل ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم باہمی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے پر الزامات لگانا شروع کر دیں یا اس حد تک چلے جائیں کہ آپس میں شدید دشمنی پیدا ہو۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے برداشت، سمجھداری اور مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہی مثبت اور تعمیری رویہ ہے۔
ہم اگر اپنے مقصد میں کچوے کی چال چل کر روزانہ کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں تو یہ ہمارا لیے باعث فخر ہے مگر دوسری جانب دشمن چیتے کی چال چل کر ہمیں آپس میں توڑنے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاست اور پنجاب کی فوج پچھلے ایک دہائی سے اس منصوبے پر کام کر رہی ہے وہ چاہتا ہے کہ عام بلوچ عوام، آزادی کے راستے سے مایوس ہوکر پنجاب کی غلامی قبول کرے۔ مختلف ورکشاپس اور سیمینارز میں وہ نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ مزاحمتی تحریکیں آپسی رنجشوں کا شکار ہیں۔ سب اپنے ذاتی مفادات کے لیے لڑ رہے ہیں اس راہ میں کوئی حاصل اور منظم جنگ دکھائی نہیں دیتی۔
ایسے نامواقـف حالات میں ایک دوراندیش گوریلا بھی اپنا موقف اپنے ساتھیوں تک پہنچانے میں ناکام رہتا ہے۔ جس کی اک اہم وجہ اندرونی اختلافات کا منظر عام پر آنا اور دشمن کے جھوٹ کو اک شفّاف سچ میں تبدیل کرنا ہے۔ عدم برداشت کیوں روز بہ روز پیدا ہوتی دکھائی دیتا ہے؟ کیا ہمیں دشمن کا ظلم نظر نہیں آ رہا، ہماری بلوچ عورتوں کو گھسیٹ کر پنجاب کی بیرکوں میں لے جاکر عصمت دری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ وہاں ہمیں غصہ کیوں نہیں آتا؟ ہمارے اندر بدلے کی آگ کیوں پنپتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی؟ کیا ہمیں بنگالیوں کی طرح باہمت بنانا چاہتے ہیں؟ بنگالی تو ہم سے بہت بہادر نکلے، انہوں نے اپنے ہر درد کا بدلہ لے لیا، ننگی فوج واپس بھیج دی اور اپنا وطن آزاد کر لیا، انقلاب کی راہ ہموار کر دی۔ ان تمام مظلوموں کے لیے جو اس ریاست کے استعماری فوج کے ظلم کا شکار ہیں۔ ہم تو ماضی کی طرح آج بھی انا پرستی کے مہلک زہر میں آہستہ آہستہ ڈوبتے چلے جا رہے ہیں۔
جب تحریک میں عدم برداشت بڑھتی ہے تو مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور تشدد، نفرت اور تقسیم کو فروغ ملتا ہے- قومی مزاحمتی تحریکوں میں عدم برداشت کی وجہ سے جنگجو اور قیادت کے درمیان فاصلے پیدا ہوتے ہیں، اختلافات ذاتی دشمنی میں بدل جاتے ہیں اور اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے – نتیجتاً تحریک اپنی سمت کھو بیٹھتی ہے اور دشمن اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتی ہے۔
کمزور قیادت وہ ہوتی ہے جو واضح وژن، فیصلہ سازی کی صلاحیت اور قربانی کے جذبے سے محروم ہو – ایسی قیادت ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتی ہے، مشکل حالات میں درست فیصلے کرنے سے کتراتی ہے اور جنگجوؤں کو متحد رکھنے میں ناکام ہوجاتی ہے۔ قیادت کی کمزوری کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ تنظیم میں نظم و ضبط ختم ہو جاتا ہے اور ہر فرد اپنی مرضی کی راہ اختیار کرنے لگتا ہے۔
جب عدم برداشت اور قیادت کی کمزوری ایک ساتھ موجود ہوں تو کسی بھی جدوجہد کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اختلافات حل ہونے کے بجائے بڑھتے ہیں، تنظیمی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور اجتماعی طاقت منتشر ہو جاتی ہے- اس صورت حال میں نہ صرف تحریک کمزور ہو جاتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی ختم ہونے لگتا ہے۔
ایک باشعور قوم یا مضبوط مزاحمتی تحریک وہی ہوتی ہے جو جذبات کو قابو میں رکھ کر عقل، تدبر اور اجتماعی مفاد کے تحت فیصلے کرے- جذبات کو مکمل طور پر رد کرنا ممکن نہیں، مگر ان کو عقل کا تابع بنانا ہی کامیابی اور استحکام کی ضمانت ہے اور استحکام کوئی ساکن کیفیت نہیں بلکہ مسلسل محنت، قربانی اور اصلاح کا عمل ہے، جب قومیں اصولوں پر قائم رہتی ہیں اور اختلاف کو دشمنی نہیں بناتیں تو وہی قومیں اک بہتر اور خوشحال مستقبل کی ضامن ہوتی ہیں۔
یہ لمحہ آزمائش کا ہے، مگر یہی لمحہ تاریخ کو موڑ دینے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اندھیرا جتنا گہرا ہو روشنی کی قدر اسی طرح بڑھ جاتی ہے، آج ہم صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ اُس مقصد کے لیے کھڑے ہیں جس پر ہمارے یقین کی بنیاد ہے۔ یاد رکھو! خوف دل میں آتا ہے مگر ٹھہرتا وہیں ہے جہاں عزم کمزور ہو، اور آج ہمارے عزم کی دیواریں فولاد سے زیادہ مضبوط ہیں، ہم نے آسان راستہ نہیں چنا بلکہ ہم نے درست راستے کا چناؤ کیا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































