ایران میں سال 2025 کے دوران سزائے موت کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں ایران کا زیر انتظام بلوچستان شامل ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق رواں سال ایران بھر میں کم از کم 1500 افراد کو پھانسی دی گئی جو گزشتہ 35 برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق یہ اعداد و شمار نہایت تشویشناک ہیں۔
تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوا، ان کے مطابق سزائے موت میں یہ اضافہ ستمبر 2022 میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد نمایاں طور پر دیکھا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2022 میں ایران میں 500 سے زائد افراد کو پھانسی دی گئی، 2023 میں یہ تعداد 800 سے تجاوز کر گئی، 2024 میں کم از کم 975 افراد کو سزائے موت دی گئی جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر کم از کم 1500 تک پہنچ گئی ہے۔
ان میں سے 700 سے زائد افراد کو منشیات سے متعلق جرائم میں پھانسی دی گئی۔
ایران کے زیر انتظام بلوچستان میں بلوچ شہریوں کی پھانسیاں
انسانی حقوق کے ذرائع کے مطابق 2025 کے دوران پھانسی دیے گئے افراد میں سیستان و بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچ شہریوں کی تعداد نمایاں ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ہی کم از کم 70 سے زائد بلوچ قیدیوں کو مختلف ایرانی جیلوں، خصوصاً ایرانشہر اور زاہدان کی جیلوں میں پھانسی دی گئی۔
مارچ 2025 کے دوران ایران میں دی گئی پھانسیوں میں بھی متعدد بلوچ شہری شامل تھے، جبکہ جون اور اکتوبر میں مغربی بلوچستان کی جیلوں میں بلوچ قیدیوں کو خاموشی کے ساتھ سزائے موت دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بیشتر کیسز میں لواحقین کو نہ تو بروقت اطلاع دی گئی اور نہ ہی آخری ملاقات کی اجازت دی گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیستان و بلوچستان میں زیادہ تر پھانسیاں غیر شفاف عدالتی عمل، جبری اعترافات، اور قانونی معاونت کی عدم فراہمی کے بعد دی جاتی ہیں۔
بلوچ قیدیوں پر سزائے موت کا تناسب ایران کی مجموعی آبادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جو نسلی و علاقائی امتیاز کی عکاسی کرتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور بلوچ تنظیموں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران میں، خصوصاً ایران زیر انتظام بلوچستان میں، سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال کا نوٹس لیں اور بلوچ قیدیوں کے خلاف ہونے والی مبینہ زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں۔
رپورٹس کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو سیستان و بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔



















































