کیچ: خواتین کی جبری گمشدگی کے خلاف ایک بار پھر احتجاج جاری

115

بلوچستان کے ضلع کیچ میں کرکی تجابان کے مقام پر ایک ہی خاندان کے تین افراد، جن میں دو خواتین شامل ہیں، کی جبری گمشدگی کے خلاف مظاہرین نے سی پیک شاہراہ کو بند کر دیا ہے، جس کے باعث علاقے میں آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق آج خواتین کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج کے نتیجے میں تربت کو کوئٹہ، پنجگور، آواران، کولواہ اور ہوشاپ سے ملانے والی مرکزی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے۔ سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔

احتجاج کرنے والے خاندان کے مطابق ان کے تین افراد کو جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کیا گیا ہے۔ جبری لاپتہ افراد میں 27 سالہ حانی بنت دل جان، 17 سالہ خیرالنساء بنت عبدالواحد
18 سالہ مجاہد ولد دل جان شامل ہیں۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حانی بنت دل جان آٹھ ماہ کی حاملہ ہیں، جس کے باعث مظاہرین اور اہلِ علاقہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے یا رہا کیا جائے۔ خواتین مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں، مگر تاحال حکام کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

مظاہریں کا کہنا ہے کہ “ہمیں مجبوراً سڑک بند کرنی پڑی کیونکہ ہمارے پاس آواز اٹھانے کا یہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔ اگر ہمارے پیارے قصوروار ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔”

یہ پہلا موقع نہیں کہ اس خاندان کے افراد نے احتجاج کیا ہو۔ پانچ روز قبل بھی کرکی تجابان میں دھرنا دیا گیا تھا، جو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد مؤخر کر دیا گیا تھا۔ تاہم لواحقین کا کہنا ہے کہ وعدوں کے باوجود لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر انہیں دوبارہ احتجاج پر مجبور ہونا پڑا۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ایک عرصے سے حساس رہا ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اس پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

سی پیک شاہراہ کی بندش کے باعث نہ صرف مقامی آبادی بلکہ بین الاضلاعی سفر کرنے والے مسافر بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔