بگٹی قبیلے میں ’چیف‘ کا عہدہ وجود ہی نہیں رکھتا۔ نوابزادہ جمیل بگٹی

269

شہید نواب اکبر خان بگٹی کے صاحبزادے، نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ بگٹی قبیلے میں اس وقت جس ’چیف‘ کے عہدے کی دستار بندی کی جا رہی ہے، اس کی کوئی باضابطہ حیثیت موجود نہیں۔

اپنے جاری کردہ بیان میں نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ نواب اکبر خان بگٹی نے اپنی زندگی میں بگٹی قبیلے کے اندر موجود تمام ذیلی چیفس کے عہدے ختم کر دیے تھے اور صرف وڈیرہ سسٹم کو برقرار رکھا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ چیف آف کلپر، چیف آف مسوری جیسے عہدے بنیادی طور پر قدیم دور میں جنگی حالات کے تناظر میں قائم کیے گئے تھے۔ اس دور میں نواب یا سردار کے لیے یہ چیفس ایک بیک اپ نظام کی حیثیت رکھتے تھے، تاکہ اگر جنگ کے دوران نواب یا سردار بیمار ہو جائیں یا وفات پا جائیں تو قیادت کا تسلسل برقرار رہ سکے۔

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے مطابق یہ تمام عہدے خالصتاً جنگی دور کی ضروریات کے تحت وجود میں آئے تھے، تاہم وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نواب اکبر خان بگٹی نے 2003 اور 2004 کے دوران بگٹی قبیلے کے اندر موجود تمام ذیلی شاخوں کے چیفس کے عہدوں کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا تھا۔

بیان کے مطابق بگٹی قبیلے کے اندر تاریخی طور پر چھ بڑی ذیلی شاخیں رہی ہیں، جن میں مسوری، کلپر، شمبانی، پیروزانی، چندرازئی اور دیگر شامل ہیں۔ ان شاخوں کے اپنے اپنے چیفس ہوا کرتے تھے، تاہم نواب اکبر خان بگٹی نے اس نظام کو ختم کرتے ہوئے چیف آف کلپر اور چیف آف مسوری سمیت تمام ایسے عہدے منسوخ کر دیے تھے۔

البتہ نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کا کہنا ہے کہ وڈیرہ سسٹم کو برقرار رکھا گیا تھا، جو قبائلی نظم و نسق کا حصہ رہا ہے۔

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے موجودہ حالات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج کے تناظر میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ ’چیف آف بگٹی‘ کے نام سے کوئی باضابطہ عہدہ موجود نہیں۔

ان کے مطابق سرفراز بگٹی اس وقت جس عہدے کی دستار بندی کر رہے ہیں، وہ دراصل مسوری شاخ کے وڈیروں کا عہدہ تھا، جس پر ان کے بقول ان کے ایک چچازاد بھائی کا حق بنتا تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اصل حق دار کو یہ عہدہ سنبھالنے نہیں دیا گیا اور خود اس کی جگہ لے لی گئی، جو بگٹی روایات، قبائلی اقدار اور اصولوں کے منافی ہے۔

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے اس عمل کو نہ صرف قابلِ افسوس بلکہ بگٹی قبیلے کی روایات کے لیے ایک شرمناک مثال قرار دیا۔