بلوچ خواتین کے بڑھتے ہوئے جبری گمشدگی کے واقعات کے خلاف عوام اُٹھ کھڑے ہوں اور بی وائی سی کی احتجاجی مہم کا حصہ بنیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کا رجحان انتہائی تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے، ان کے مطابق بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی اب کوئی غیر معمولی یا سنگین جرم نہیں رہا بلکہ روزمرہ کا معمول بنتی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ ایسے نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں خواتین کو ان کے خاندانوں کے سامنے، بغیر وارنٹ اور بغیر کسی الزام کے گھروں سے اغوا کیا جاتا ہے، جبکہ بعد ازاں ان کے اہلِ خانہ کو کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔
سمی دین بلوچ کے مطابق جو عمل کبھی ناقابلِ تصور تھا وہ اب معمول بن چکا ہے، اگرچہ بلوچستان طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں کے مظالم کا شکار رہا ہے، تاہم خواتین کو بالخصوص نشانہ بنانا جس میں نابالغ لڑکیاں، مائیں اور حاملہ خواتین شامل ہیں اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستی تشدد کے سامنے اب کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ بطور مائیں، بیٹیاں، بہنیں اور کارکن، بلوچ خواتین تاریخی طور پر مزاحمت کی صفِ اوّل میں رہی ہیں، آج انہیں نشانہ بنانا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت انہیں خاموش کرانے پورے معاشرے کو دہشت زدہ کرنے، عوامی حوصلے توڑنے اور خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے کی کوشش ہے۔
سمی دین بلوچ نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال میں خاموشی بھی جرم کے مترادف ہے۔
انہوں نے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مہم کا ساتھ دیں اور تمام جبری لاپتہ بلوچ خواتین کی فوری اور محفوظ رہائی کا مطالبہ کریں۔



















































