سال 2025: بلوچستان میں فورسز پر حملوں، بم دھماکوں و دیگر واقعات میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ

228

رواں سال بلوچستان میں ہونے والے حملوں اور بم دھماکوں میں 248 شہری اور 205 پاکستانی فورسز اہلکار مارے گئے۔

سرکاری حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق سال 2025 بلوچستان کے لیے امن و امان کے حوالے سے ایک اور کٹھن اور خونریز سال ثابت ہوا، جہاں مسلح جھڑپوں و دیگر واقعات میں شہریوں اور پاکستانی فورسز اہلکاروں سمیت سینکڑوں افراد مارے گئے، جبکہ بلوچستان بھر میں خوف اور غیر یقینی کی کیفیت برقرار رہی۔

سرکاری رپورٹ میں سیکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رواں سال بلوچستان میں مجموعی طور پر 432 مسلح کاروائیاں رپورٹ ہوئے، جن میں 284 شہری اور 205 فورسز اہلکار مارے گئے ہیں۔

ان واقعات نے نہ صرف عوام کے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا بلکہ بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ، مستونگ، خضدار، تربت اور نوکنڈی میں 6 خودکش حملے کیے گئے، 11 مارچ کو بولان میں جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے ہائی جیک کیا گیا۔

اسی طرح 18 فروری کو بارکھان میں 7 افراد کو ہلاک کیا گیا، جبکہ جولائی میں ژوب اور قلات کے قریب مسافر کوچز پر فائرنگ کے واقعات پیش آئیں۔

15 مئی کو خضدار میں ایک بس کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوئے۔

اسی طرح 30 ستمبر کو کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

دوسری جانب ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز کے دعویٰ کے مطابق رواں سال بلوچستان میں 78 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران 707 شدت پسند مارے گئے۔

حکام کے مطابق مسلح گروہ اور انکے ارکان کے خاتمے کے لیے کارروائیاں مسلسل جاری رہیں، تاہم خطرات بدستور برقرار ہیں۔

سال 2025 مجموعی طور پر بلوچستان کے لیے امن و امان کے حوالے سے مایوس کن رہا، جہاں شہری طویل عرصے تک خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے رہیں۔

عوامی حلقوں کی جانب سے سیکورٹی ناکامی پر حکومت سے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید موثر اور ٹھوس اقدامات کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار کو مشکوک تصور کیا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ واقعات کی ایک بڑی تعداد رپورٹ نہیں ہوتی ہے جبکہ فورسز اہلکاروں کی ہلاکتوں کو بھی عسکری حکام چھپاتے ہیں۔