پاکستانی فورسز نے حب سے جبری گمشدگی کا شکار خواتین پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے۔
فورسز حکام کے مطابق ایک چھاپے کے دوران حب سے مبینہ خودکش بمبار خیرالنساء سمیت اس کی ایک سہولت کار ہانی کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ ایک اور سہولت کار فرید کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تجابان سے گرفتار کیا گیا ہے۔
پاکستانی فورسز کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ افراد خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھیں، تاہم ان کی گرفتاری کے بعد موجودہ ٹھکانوں کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ آج صبح حب چوکی کے علاقے دارو ہوٹل کے قریب پاکستانی فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں موجود دو خواتین کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
حب سے گرفتاری کے بعد جبری گمشدگی کا شکار ہونے والی خواتین کے اہل خانہ نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ ہفتے کی علی الصبح تقریباً تین بجے حب چوک کے علاقے گنجی گھوٹ، دارو ہوٹل کے مقام پر پیش آیا، اہل خانہ کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں 17 سالہ خیرالنساء اور 27 سالہ ہانی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران حب سے خواتین کی جبری گمشدگی کے دو واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ مذکورہ علاقے سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی یہ چوتھی خاتون ہیں۔
گزشتہ شب بھی پاکستانی فورسز نے اسی علاقے سے 27 سالہ ہزرہ نامی خاتون کو اس کے دو سالہ بیٹے برہمداغ کے ہمراہ تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا، جبکہ 22 نومبر کو 15 سالہ نسرین بلوچ بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنی تھیں، جو تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکیں۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں خواتین کو بھی بڑی تعداد میں لاپتہ کیا جارہا ہے۔
رواں ماہ کی یکم تاریخ کو خضدار سے فرزانہ نامی خاتون اور دالبندین سے رحیمہ نامی بلوچ خاتون کو ان کے بھائی کے ہمراہ پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا، جو تاحال بازیاب نہیں ہو سکیں۔
اسی طرح رواں سال مئی میں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی بلوچ طالبہ ماہ جبین بلوچ بھی تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکیں۔



















































