کوئٹہ، تربت، بسیمہ میں قابض فوج پر دستی بم حملے اور ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتے ہے۔ بی ایل ایف

234

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف نے کوئٹہ اور تربت میں قابض فوج کو دستی بم حملوں میں نشانہ بنایا جبکہ بسیمہ میں سی پیک شاہراہ پر ناکہ بندی کی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے بارہ دسمبر بروز جمعہ دن ایک بجے سے لیکر شام چھ بجے تک بسیمہ کے علاقے پتک میں سی پیک شاہراہ پر ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کی، دوران چیکنگ محکمہ کسٹمز کے دو اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا جو اس وقت تنظیم کی تفتیشی ٹیم کی تحویل میں ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ان اہلکاروں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے بارہ دسمبر بروز جمعہ رات نو بجے تربت کے علاقے آبسر آپدروک میں قائم قابض پاکستانی فورسز کی چوکی پر دستی بم سے حملہ کیا جو چوکی کے اندر جا گرا جس کے نتیجے میں قابض فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

ترجمان نے کہا کہ سرمچاروں نے ایک اور کاروائی میں تیرہ دسمبر رات دو بجے  کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ کچھی بیگ تھانے کے دروازے کے سامنے کڑے تین ایف سی اہلکاروں کو دستی بم سے نشانہ بنایا جس سے تینوں اہلکار زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کوئٹہ اور تربت میں قابض فورسز پر دستی بم حملے اور بیسمہ میں ناکہ بندی، کسٹم اہلکاروں کو حراست میں لینے کی زمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ آزاد بلوچستان کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔