بلوچستان لبریشن فرنٹ “بی ایل ایف” کی جانب سے چاغی میں پاکستانی فورسز کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد اپنے خاتون فدائی حملہ آور کی تصویر جاری کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں آج شام مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کے ایک مرکزی کیمپ کو حملے کا نشانہ بنایا، جہاں پہلے ایک خودکش حملہ آور نے مرکزی دروازے پر دھماکہ کیا، جس کے بعد دیگر مسلح افراد کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہوگئے۔
چاغی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حملہ آور تاحال کمپاؤنڈ کے اندر موجود ہیں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ پاکستانی فورسز کے حکام نے بھی واقعے کی تصدیق کی ہے۔
حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے ذیلی ادارے سوب کے ارکان نے نوکنڈی میں ریکوڈک اور سیندک سے منسلک غیر ملکی عملے اور انجینئرز کے لیے قائم مرکزی کمپاؤنڈ پر شدید حملہ کیا۔
بی ایل ایف نے اپنے آفیشل چینل پر اپنے خاتون فدائی حملہ آور کی تصویر جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جند ندری زرینہ رفیق عرف ترانگ ماہو نے کمپاؤنڈ کے بیریئر کو توڑتے ہوئے خود کو دھماکے سے اڑایا، جس کے نتیجے میں بی ایل ایف کے دیگر سرمچار کمپاؤنڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔
تنظیم کے مطابق جھڑپیں بدستور جاری ہیں اور ان کے سرمچار مرکزی کیمپ کے اندر موجود ہیں، جبکہ آپریشن کی مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔












































