بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بلوچستان کے علاقے بولان، کوہلو، دشت، خاران، مند اور پنجگور میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف سرمچاروں نے 30 نومبر کی صبح سات بجے کے قریب بولان کے علاقہ بی بی نانی میں نیم فوجی دستہ فرنٹیئر کور کے قافلے میں شامل تین گاڑیوں کو انتہائی قریب سے حملے میں نشانہ بنایا۔
ترجمان کے مطابق حملے کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، حملے کے بعد فورسز نے مرکزی شاہراہ کو آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند کردیا۔
میجر گہرام بلوچ نے کہا ہے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 29 نومبر کی رات سات بجے کے قریب کوہلو کے علاقہ نوشام میں قائم ایک فوجی چیک پوسٹ پر انتہائی قریب سے حملہ کرکے ہدف بنایا، دورانِ حملہ سرمچاروں نے دشمن کے کیمپ پر آر پی جی کے متعدد گولے فائر کیے جو مقررہ اہداف پر لگے، کیمپ کے حفاظتی مورچے پر راکٹ کے گولے لگنے سے دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔
انہوں نے کہا بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 30 نومبر کی شام پانچ بجے کے قریب مند سورو میں قائم قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو مختلف اطراف سے ہدف بناکر نشانہ بنایا، حملے کے دوران سرمچاروں نے گرنیڈ لانچرز سمیت بھاری ہتھیاروں کا بھرپور استعمال کیا جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچایا۔
انکا کہنا تھا بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 29 نومبر کی شام پانچ بجے کے قریب پنجگور کے علاقہ سوراپ کے مقام پر چائنہ پاکستان سڑک سی پیک پر چار گھنٹے کی ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ کی، اس دوران سرمچاروں نے پنجاب کیلئے گیس لے جانے والی چار گاڑیوں کو نشانہ بناکر نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ایک کاروائی میں 29 نومبر کی شب سات بجے کے قریب خاران شہر کے حساس علاقہ “ریڈ زون” میں قائم ملٹری انٹیلیجنس کے دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا بم دفتر کے اندر جا کر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے ایک اور کاروائی میں 28 نومبر کی رات 9:30 بجے کیچ، دشت کے علاقہ بَل نَگور میں قائم قابض پاکستانی فورسز کے کیمپ پر راکٹ لانچر کے متعدد گولے فائر کیے، جو کیمپ کے اندر جا گرے، جس کے نتیجے میں دشمن فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچا۔
میجر گہرام بلوچ نے اپنے بیان میں مزید کہا قابض پاکستانی فوج نے 28 نومبر کو کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں سرمچاروں کے خلاف فضائی اور زمینی آپریشن کا آغاز کیا جو چوبیس گھنٹوں تک جاری رہا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے دوران دشمن کے فضائیہ نے رات ایک بجے سرمچاروں کے خلاف ڈرون طیاروں کی مدد سے تین میزائل فائر کیے، تاہم تمام سرمچار اس حملے میں با حفاظت نکلنے میں کامیاب رہے، اگلی صبح چھ بجے کے قریب سرمچاروں کا دشمن فورسز سے آمنا سامنا ہوا اور فریقین کے مابین شدید لڑائی ہوئی دشمن کے ساتھ اس جھڑپ میں سرمچار قدیر احمد عرف دلجان ولد عبدالمالک شہید ہوگئے۔
بی ایل ایف کے مطابق شہید سرمچار قدیر احمد عرف دلجان ولد عبدالمالک بنگلزئی، سکنہ اسپلنجی مستونگ نے دو ماہ قبل بلوچ قومی آزادی کی خاطر بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی اس نے اس مختصر مدت میں خود کو ایک محنتی اور نڈر سرمچار کے طور پر منوایا۔
ترجمان نے آخر میں کہا بلوچستان لبریشن فرنٹ ان مختلف کارروائیوں میں دشمن کے سات اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور شہید سرمچار قدیر احمد عرف دلجان ولد عبدالمالک کو اس کی عظیم قربانی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ آزاد بلوچستان تک قابض قوتوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔














































