تھیلیسیمیا آگاہی اور علاج – پری گل

14

تھیلیسیمیا آگاہی اور علاج

تحریر: پری گل

دی بلوچستان پوسٹ

ہمارے اردگرد اتنے مسائل ہیں کہ ہمارا دھیان ان مشکلات کی طرف کم ہی جاتا ہے جن کا ہم نے تجربہ نہیں کیا۔ بدامنی، افلاس اور بیماریوں سمیت کئی خوف جو ہمارے دل و دماغ کو اپنا مستقل مسکن بنا چکے ہیں، شاید دنیا اسی کا نام ہے. انسان ہمیشہ ان سے نمٹنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس کے مستقبل کے خوف ہی اسے بہتر سے بہتر کی طرف جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتے ہوئے کچھ مسائل پر قابو بھی پا لیا جاتا ہے۔ بجلی سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ بجلی کے تار کی کرنٹ کتنی خطرناک ہے وہ معصوم بچے کو اس کی طرف جاتا دیکھ کر غیر ارادی طور پر اسے روک لیتے ہیں ۔ کچھ لوگ ایسے تجربات سے گزرے ہیں جن سے عام طور پر ہر شخص تو نہیں گزرتا لیکن جو گزرتے ہیں ان کی مشکلات اتنی بڑی ہوتی ہیں شکل دیکھ کر ہی اندازه ہو جاتا ہے انہی میں سے ایک تھیلیسیمیا نامی خون کی جینیاتی موروثی بیماری ( والدین سے بچوں میں آنے والی بیماری) ہے۔

تھیلیسیمیا دنیا کے بہت سے خطوں میں غیر معمولی اور نایاب ہے جن ترقی یافتہ خطوں کی جن میں یہ موجود ہے وہاں اس سے بچاؤ اور علاج کے لئے محنت کی جارہی ہے لیکن جس خطے میں ہم‌ موجود ہیں وہاں نہ اس کے بارے میں آگاہی موجود ہے نہ بیمار بچے کی دیکھ بال کے لیے کوئی انتظام ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریبا پانچ ہزار بچے تھیلیسیمیا کیساتھ پیدا ہوتے ہیں اور پچاس فیصد بچے پندره سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے وفات پا جاتے ہیں۔

کچھ سال پہلے کمرے میں گزرتے ہوئے میری نظر ٹی وی پر پڑی جہاں تھیلیسیمیا سے متعلق ایک پروگرام چل رہا تھا۔ اس بیماری کا نام سنا تھا لیکن یہ سمجھتی تھی کہ یہ بیماری بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب میں نے تھیلیسیمیا کے بارے میں غور سے سنا۔ پروگرام کے جس حصے سے میں نے سننا شروع کیا اس میں کراچی کے کاشف اقبال تھیلیسیمیا سینٹر کے بانی اپنے وفات شدہ تھیلیسیمیا کے مریض بیٹے کاشف کی زندگی کی مشکلات بتا رہے تھے۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں سننا برداشت نہیں کر سکی اور دل میں اس بیماری سے اللہ کی پناه مانگ کر کمرے سے نکل گئی۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد میرے پہلے بیٹے اور دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی۔ بظاہر صحت مند بچہ ہم یعنی والدین سے ایک بیمار جین لے کر پیدا ہوا تھا جس کا ہمیں تقریباً تین ماہ بعد پتا چلا۔

تین ماہ مکمل ہونے پر میرے بیٹے کی جلد کا رنگ بدلنا شروع ہوا اس میں سرخ رنگ جیسے بلیچ ڈال کر بدل دیا گیا ہو۔ بخار کے ساتھ گردن ڈھیلی ہو گئی۔ میں نے اپنے بچوں کی ڈاکٹر ایک دوست کو کال کر کے مسئلہ بتایا اس نے جونہی عمر پوچھی تو فوراً کہا “اللہ نہ کرے یہ تھیلیسیمیا نہ ہو”۔ میرے ذہن میں وہی ٹی وی پروگرام آیا کہ وه بیماری جسے میں ٹی وی میں سننا برداشت نہیں کر سکی۔ اس نے مجھے ایس ایم ایس میں تشخیص کے لیے ٹیسٹ لکھ کر دیا۔ اسی دن اپنے بچے کو تربت شہر کے دو مشہور ڈاکٹروں کے پاس لے گئی۔ ایس ایم ایس دکھا کر پوچھتی تھی کہ بچے کے اس ٹیسٹ کی ضرورت ہے؟ زبان میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ ڈاکٹر کو بچے کی حالت سے اندازه ہوگیا اور کراچی لے جانے کا کہا، تربت میں ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے بچے کو فوری طور پر کراچی لے جانا پڑا جہاں ایک نجی ہسپتال کے ایمرجنسی میں ٹیسٹ ہوئے لیکن بچے کا خون اتنا کم تھا کہ رپورٹ آنے سے پہلے خون کی ضرورت تھی۔ اس دن میں نے ضد کرکے خون نہیں لگایا ہسپتال سے نکلتے ہوئے ہم سے دستخط لیے گئے کہ بچے کو اگر کچھ ہوا ہسپتال ذمہ دار نہیں ہے۔

اگلے دو دن بچہ بہت سست رہا اور سوتا رہا۔ تین دن بعد اس کی رپورٹ آئی تو ڈاکٹر نے خون لگانے کا کہا (اس وقت جو ہوا بیان نہیں کرنا چاہتی لیکن بغیر کہے سمجھ جائیں)۔ میں اپنے بچے کو ہسپتال سے خون لگائے بغیر لے گئی لیکن گھر جانے پر اس کی طبیعت مزید خراب ہو گئی تو خون کے ایک ہسپتال میں مجبوراً خون لگوانا پڑا۔ قیامت کی اس رات میرا اور‌ میرے بچے کا آنسوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا، بعد میں اس کے کچھ کاغذات دیکھے تو پتا چلا اسے پہلا خون ہماری شادی کی سالگرہ کے دن لگا تھا۔

میں اس سے پہلے تھیلیسیمیا کے حوالے سے ایک مضمون لکھ چکی ہوں، اس دن میں گذشتہ تکالیف یاد کر کے بہت روئی تھی۔ آج میں انہیں یاد کر کے دوبارہ نہیں رونا چاہتی کیونکہ آج کے دن میرا چار سال کا دوسرا تھیلیسیمیا کا مریض بیٹا ہسپتال میں خون لگوا رہا ہے اور میرے 10 سال سے بہنے والے آنسو کبھی کبھار مجھ سے ماضی کو یاد نہ کرکے خود پر رحم‌ کی اپیل کرتے ہیں اور دل کے کسی گوشے میں مسقبل کے خوف سے لرز رہے ہوتے ہیں۔

جب بھی کسی مرض کی بات ہوتی ہے تو کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ جیسے سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ بلوچستان میں یہ بیماری اتنی عام ہو رہی ہے کہ “کیا؟” کا جواب اب اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یہ خون کی ایک پیدائشی بیماری ہے جس میں خون کی کمی کے سبب ہر ماہ خون کی ضرورت پڑتی ہے۔ “کیوں؟” کا جواب یہ ہے کہ یہ بیماری ماں اور باپ دونوں میں موجود ہوتی ہے تو بچے میں منتقل ہوتی ہے۔

“کیسے؟” کے کئی سوالات اور بہت سے جوابات ہو سکتے ہیں جن میں سے میں نے اپنی کہانی ہم نے کیسے حالات دیکھے مختصراً بیان کی ہے۔ ایک “کیسے” یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس بیماری سے “کیسے” بچا سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ اپنے صحت مند بالغ و نابالغ بچوں کے جین ٹیسٹ کر کے معلوم کرنا کہ ان میں مائنر تھیلیسیمیا موجود ہے یا نہیں تاکہ دو تھیلیسیمیا مائنرز کی آپس میں شادی نہ ہو۔

مجھے آپ کو رلا کر اس بات کے احساس دلانے کی ضرورت نہیں کہ تھیلیسیمیا سے نمٹنا کتنا مشکل ہے۔ یہ ایک تحریر ہے، اردو میں پڑھ سکنے والے اتنے باشعور تو کم از کم ہونے چاہیئں کہ انہیں معلوم ہو ہر چیز کا تجربہ ضروری نہیں ہمارے تجربات سے اپنی زندگی کو مزید مشکلات سے بچانے کی کوشش کریں۔ یہ تجربہ اپنے ہونے والے بچے پر نہ کریں۔ یہ جاننے کے لیے کہ آپ کے خاندان میں تھیلیسیمیا موجود ہے، بیمار بچہ پیدا کرنا ضروری نہیں خون کا ٹیسٹ کروا کر معلوم کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔