کاش ہمارے پیارے فوت ہوتے تو ہم ان کی تدفین کر پاتے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ میں پریس کانفرنس

53

جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے کوئٹہ میں جاری طویل احتجاجی کیمپ میں ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔

اس موقع پر انہوں نے بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے بارے میں تفصیل سے بات کی اور کہا کہ یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے جس نے ہزاروں بلوچ خاندانوں کو اذیت اور کرب میں مبتلا کردیا ہے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کررہی ہیں اور رواں سال اس عمل میں تیزی آئی ہے، سیکڑوں نوجوان اور بزرگ لاپتہ کیے گئے ہیں جن میں بعض خواتین بھی شامل ہیں۔

چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کو نہ تو عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم کی جاتی ہے اس کا اثر پورے خاندان پر پڑتا ہے جو اذیت میں مبتلا ہیں۔

پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا تھا کاش ہمارے پیارے فوت ہو جاتے تو کم از کم ہم ان کی تدفین کر پاتے، مگر آج ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔”

نصراللہ بلوچ نے اپنے چچا، علی اصغر بنگلزئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ان کی بازیابی کے کئی بار احکامات دیے لیکن اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا عدالتی احکامات کی بے وقعتی ایک سنگین مسئلہ ہے جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے نصراللہ بلوچ نے مختلف حکومتوں کی جانب سے نافذ کیے گئے آرڈیننسز پر بھی تنقید کی، جن کے ذریعے اداروں کو غیر محدود اختیارات دیے گئے ہیں، ان اختیارات کی وجہ سے ادارے کسی بھی فرد کو گرفتار کر سکتے ہیں اور انہیں کئی ماہ تک حراست میں رکھ سکتے ہیں جبکہ دوران حراست قتل ہونے کی صورت میں کسی کو بھی جوابدہ نہیں بنایا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ پاکستان کے آئین، شہری آزادیوں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی بھی کھلی توہین ہیں۔

نصراللہ بلوچ نے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 اور 10 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا تحفظ حاصل ہے اور گرفتاری کی صورت میں اس کے قانونی حقوق کی پاسداری ضروری ہے۔

نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جو ان گمشدگیوں میں ملوث ہیں، انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو معلومات فراہم کی جائیں اور اس غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کے خلاف شفاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں کے سدباب کے لیے جامع قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ انسانی اقدار کے مطابق اس عمل کو روکا جا سکے۔

جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے حوالے منتعد پریس کانفرنس میں لاپتہ افراد کے لواحقین بھی موجود تھے، جن میں محمود علی لانگو، نعمت اللہ، عبد الفتح، صدام حسین کرد، غلام فاروق سرپرہ اور جہانزیب محمد حسنی کے اہل خانہ شامل تھے۔

انہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کی اذیت کا ذکر کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے اور انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، وہ ہر صورت میں اپنے پیاروں کی بازیابی اور ان کے قتل میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے تک اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

پریس کانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا گیا کہ جبری گمشدگیاں اور ان سے متاثرہ افراد کے لواحقین کے حقوق کا دفاع جاری رکھا جائے گا اور ان کی آواز عالمی سطح پر بلند کی جائے گی۔