خضدار جعلی مقابلہ: تین افراد قتل، ایک کی شناخت جبری لاپتہ عبدالمالک بلوچ کے نام سے ہوگئی

337

قلات کے علاقے کوہنگ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ عبدالمالک ولد محمد یوسف، جنہیں 11 اکتوبر 2024 کو تربت سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، ان کی لاش کل رات باغبانہ سے برآمد ہوئی ہے۔ فورسز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مالک بلوچ فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا، جس کے بعد ان کی لاش باغبانہ میں پھینک دی گئی۔

تاہم لواحقین اور علاقہ مکینوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ عبدالمالک ایک جبری لاپتہ شخص تھے، اور انہیں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔

عبدالمالک بلوچ کی میت ان کے لواحقین کے حوالے کی گئی، جنہوں نے انہیں قلات میں آبائی علاقے میں سپردِ خاک کر دیا۔

یاد رہے کہ مالک بلوچ کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے کئی بار سڑکیں بلاک کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا اور حکومتی نمائندوں سے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ جبکہ 3 اور 4 مارچ کو قلات سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تقریباً 50 افراد کے حوالے سے ہونے والے احتجاج کے دوران بھی عبدالمالک کے خاندان نے مذاکراتی ٹیم کے سامنے ان کی بازیابی کا مطالبہ اٹھایا تھا، جس پر ضلعی انتظامیہ نے پندرہ دن کی مہلت مانگی تھی۔

لواحقین نے کہاکہ کئی ماہ کی جدوجہد، امیدوں اور مسلسل احتجاج کے باوجود، ان کے انتظار کا انجام ایک لاش کی صورت میں سامنے آیا۔ اس دلخراش واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، اور لواحقین سمیت انسانی حقوق کے حلقوں اور علاقہ مکینوں نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لواحقین نے بتایا کہ کل رات فورسز نے انہیں بلاکر ایک کاغذ پر دستحط کروایا اور اسی دوران لاش کو جیکٹ پہنایا گیا اور بندوق ساتھ رکھ کر تصویریں کھینچیے گئے۔