بی وائی سی رہنماؤں کی گرفتاری، کارولا راکیٹے اور یورپی پارلیمنٹ کے تین ارکان کا کایا کالاس کو خط

305

کارولا راکیٹے اور یورپی پارلیمنٹ کے تین ارکان، مائیکل میکنامارا، ریما حسن اور لی اینڈرسن نے یورپی اعلیٰ نمائندے کایا کالاس کو ایک خط لکھا ہے، جس میں کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ہم پاکستان میں بلوچ کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں بشمول ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ زہری اور سمی دین بلوچ کی غیر قانونی حراست اور ہراسانی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ افراد بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پُرامن جدوجہد کے باعث نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جو کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی منتظم اور ایک نمایاں انسانی حقوق کی کارکن ہیں، کو 22 مارچ 2025 کو کوئٹہ میں ایک پُرامن دھرنے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ وہ اس وقت ہدہ ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں قید ہیں۔

20 مارچ 2025 کو BYC کے مرکزی کمیٹی کے رکن بیبرگ زہری کو ان کے گھر سے اغوا کیا گیا اور وہ اس وقت محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) کی حراست میں ہیں۔ یہ گرفتاری 11 مارچ 2025 کو ایک مسافر ٹرین پر حملے کے بعد بلوچ انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تحت عمل میں آئی۔ اطلاعات کے مطابق بیبرگ بلوچ جو معذور ہیں کو طبی امداد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

اسی طرح سمی دین بلوچ کو کراچی کی سینئر سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل میں قید کر دیا گیا۔ اگرچہ 25 مارچ کو عدالت نے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن انہیں دوبارہ عوامی نظم و ضبط کے آرڈیننس کے تحت گرفتار کر لیا گیا جس سے ان کے قانونی دفاع کے مواقع محدود ہو گئے۔

یہ غیر قانونی گرفتاریاں بلوچ برادری کے حقوق پر منظم حملے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ہم یورپی کمیشن اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پاکستانی حکام سے رابطہ کریں تاکہ ان کارکنوں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے اور اس خطے میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔