کوئٹہ سے متصل مستونگ کے کوہ چلتن کے دامن میں بی این پی کا دھرنا جاری ہے۔ آج پارٹی سربراہ اختر مینگل نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات یہی ہیں کہ سرکار پر لرزہ طاری ہوگیا ہے اور اس کی ٹانگیں کانپنے لگی ہیں بس آپ یونہی ڈٹے رہیں اسے گرانے کی دیر ہے اس بار اسے منہ کے بل گرانا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ مجھ سے اسلام آباد کے ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ سردار ارب پتی ہیں ، جائیدادوں کے مالک ہیں ، اس پر میں نے کہا بلکل ہم ذمہ دار ہیں کہ ہم نے اپنے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا لیکن آئیں ایک لین دین کرتے ہیں آپ اپنے تین چار جرنیل لے آئیں ان کے جتنے اثاثے ہیں وہ ہمیں دے دیں اور ہمارے اثاثے انہیں دیدیں ۔
اختر مینگل نے توتک اجتماعی قبر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک قبر میں لاتعداد لوگوں کو مارکر پھینکا گیا اس میں کس کو سزا ہوئی ؟ میں جب لاپتہ افراد کے کمیشن کا سربراہ بنا تو ہم نے چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر حکام کو لیٹر لکھے کہ ہمیں توتک اجتناعی قبر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ دیدیں ہمیں پتہ تھا کہ رپورٹ میں مشکل ہے کہ شفاف تحقیقات کی گئی ہوں لیکن یہ امکان تھا کہ اس اجتماعی قبر کے نشانات داڑھی والے یا اس داڑھی والواں کی طرف جاتے دکھائی دیں لیکن ہمیں رپورٹ نہیں دی گئی۔
اختر مینگل نے کہا کہ ہم پر گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، پہلے وسائل لوٹنے لگے جب مزاحمت کی گئی تو انہوں نے فوجی آپریشنز کئے اب تو زبان بندی بھی کی جارہی ہے۔ اگر کسی کی سیٹیں چھین لی جائیں ، کسی کی حکومت ختم کردی جائے تو وہ احتجاج کرسکتاہے جیسے کہ کسی نے کہا ” مجھے کیوں نکالا ” لیکن ہمارے لوگ غائب کئے جاتے ہیں پھر کہا جاتا ہے کہ آپ احتجاج بھی نہ کریں ، بات بھی نہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار سردار اختر مینگل نے لکپاس کے قریب جاری دھرنے سے براہوئی میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
دھرنا گزشتہ پانچ روز سے جاری ہے۔ اختر مینگل نے کہا کہ ہم پر جب بھٹو زندہ تھا تب بھی آپریشن کیا گیا جبکہ اب تو وہ (شوم) مر چکا ہے اب بھی آپریشن جاری ہے۔ اس دوران مجمع سے ” بھٹو کل بھی قاتل تھا بھٹو آج بھی قاتل ہے ” کے نعرے لگائے گئے۔
اختر مینگل نے کہا کہ ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہم واقعات کی مزاحمت کریں لیکن کیا یہ خود 1948 کے آپریشن 1950 کے آپریشن ، 1962 کے آپریشن ، 1973 کے آہریشن ، ضیاء الحق کہ جس نے حمید بلوچ کو پھانسی دی ، جنرل مشرف کے آپریشن کہ جس میں نواب بگٹی کو شہید کرکے ان کی لاش کو تالا لگایا اب بھی آپریشن جاری ہے ان سب کی مذمت کریں گے ؟
اختر مینگل نے تربت میں حیات بلوچ کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کے ہاتھ پاؤں اس کی ماں کے دوپٹے میں باندھ کر گولیاں ماری گئیں کیا کسی جنرل کو سزا دی گئی ؟ کچھ کے بارے میں خبر آتی ہے کہ ان کا کورٹ مارشل کردیا گیا ہے لیکن کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ان کو کس جیل میں رکھا گیا ہے اور کیا سزا دی گئی ہے۔