بلوچستان: جدوجہد، جبر اور آزادی کی راہ
تحریر: رامین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
گزشہ دنوں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے حالیہ دنوں شال سے جبری گمشدگیوں اور فرضی مقابلے میں شہید کئے جانے والے بلوچ فرزندوں کی لاشوں کے خفیہ تدفین اور تنظیم کے راہنماء بیبرگ بلوچ،ڈاکٹر حمل بلوچ، ناصر قمبرانی سعید ہ فیصل بلوچ اور ڈاکٹر الیاس بلوچ سمیت کئی دیگر جبری طور پر گمشدہ افراد، گھر گھر ریاستی چھاپوں اور کریک ڈاؤن کے خلاف ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالی گئی،جس پر ریاستی فورسز نے تمام تر انسانی قوانیں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے، اور اس کے ساتھ سٹریٹ فائر کی،جس کی نتیجہ میں متعدد پر امن مظاہرین زخمی ہوئے اور تین نوجوان موقع پر شہید ہوئے۔ اور جب کہ تین نوجوانوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔
اس سے قبل لاشوں کے حوالگی کے مطالبات کرنے والی بلوچ خواتین پر لاٹھی چارج کیا گیا، جس کے نتیجہ میں متعدد بلوچ خواتین زخمی ہوئیں۔ لیکن آج،ایک دن بعد، ریاست نے پر امن احتجاج کرنے والوں کی لاشین گرادیں۔ آج صبح،ایک دفعہ پھر ریاست نے لاشوں کے ہمراہ دھرنے پر کریک ڈاؤن کیا، جس کے دوران بی وائی سی کے مرکزی راہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بانک بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور سترہ سے زیادہ مظاہرین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔
نوآبادیاتی ریاستوں کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ مقبوضہ اقوام کی مزاحمت کو مختلف طریقوں سے کچلنے کی کوشش کرتی ہیں۔اور بلوچستان میں یہ حربے نہ صرف استعمال میں ہورہے ہیں بلکہ ہرگزرتے دن کے ساتھ ان میں شدت آرہی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر مظاہرین کی گرفتاری اور شہادت اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اب جمہوری اور پر امن جدوجہد کو برداشت کرنے سے خائف ہے۔ لیکن تاریخ گواہے کہ مشرقی تیمور میں انڈونیشیا نے چوبیس سالہ قبضہ میں دو لاکھ افراد قتل کئے،جو اسوقت مشرقی تیمور کی کل آبادی کاتقریبا ایک تہائی تھا،لیکن پھر بھی مشرقی تیمور نے آزادی حاصل کرلی۔
بلوچستان میں جاری جدوجہد صرف ظلم و جبر کے خلاف انسانی حقوق کی جنگ نہیں، بلکہ اس نوآبادیاتی نظام کو مسترد کرنے کا اعلان ہے۔ جب ایک قوم اپنی شناخت اور زمین کی آزادی کے لئے یکجہتی کے ساتھ قربانیاں دیتی ہے اور مسلسل جدوجہد جاری رکھتی ہے، اورپھر تاریخ کا دھارا بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔
شال کی یخ بستہ ہواؤں میں امید کے چراغ جلانے والوں نے شاید یہ گمان نہیں کیاتھا کہ ریاست ان کے پر امن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لے آنسو گیس کے بادل چھوڑے گی اور گولیوں کی گھن گرج میں ان کی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کرے گی، نہتے بلوچوں کی لاشیں گرائیں گی۔ یہ بلوچ تاریخ ایک اور المناک باب ہے، جو پر امن راستے بند کرنے کی کوشش کرکے بلوچ قوم کے لئے صرف مسلح جدوجہد کا راستہ کھلا چھوڑرہاہے، کیونکہ ریاست صرف بندوق کی زبان جانتی ہے۔
پر امن مظاہروں میں جب لوگوں کو شہید کیا جاتاہے تو پھر کیوں نہ وہ براہ راست مسلح جدوجہد کا راستپ اپنائیں؟ پنجابی ریاست کے اندر
قانون صرف کاغذی بن چکاہے، وہ بھی صرف دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے۔ گوانتانا موبے جیسے جیلوں میں اس طرح کی اذیتیں نہیں دی جاتیں جیسی پاکستانی ریاست بلوچ فرزندوں کو جبری گمشدگی کا شکار بناکر، فرضی مقابلوں میں شہید کرکے ہے اور پھر اس جبر کو جھٹلانے کے لئے یہ بیانیہ پھیلاتی ہے، کہ یہ جو مسنگ پرسنز کا لسٹ ہے یہ بے بنیاد ہے۔ یہ مسنگ پرسنز کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی ایک مجرمانہ حربہ ہے تاکہ عالمی دنیا کو گمراہ کیا جاسکے کہ یہ جو مسنگ پرسنز ہیں یہ پہاڑوں میں ہیں۔
شال میں تین لاشوں کے ساتھ دھرناپہ بیٹھے مظاہرین کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لے ریاست بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ پر مبنی یہ بیا نیہ جاری کرتاہے کہ، پولیس نے سڑک کھلوانے کے لئے کاروائی کی۔ اور معلوم نہیں بی وائی سی نے کس کی میتیں روڈ پر رکھ کر احتجاج کررہی ہے، جب تک متوفیاں کی لاشیں سول ہسپتال پہنچاکر ریاستی ضابطے کے کاروائی مکمل نہیں کی جاتی۔ وجوہات کا تعین ممکن نہیں۔ کٹھ پتلی حکومت کے یہ ربوٹ جن میں جھوٹ کا سافٹ وئیر انسٹال کیا گیا ہے۔ مسلسل دروغ گوئی میں مصروف ہیں،دوسری طرف زخمیوں کوطبی امدا د اور خون کی فراہمی سے روکنے کی بہیمانہ ہتکھنڈے استعمال کئے گئے۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، وسائل کی لوٹ مار اور ریاستی بدمعاشیوں کے خلاف بلوچ قوم برسوں سے آوازیں اٹھارہی ہے، لیکن ان کے پر امن احتجاج کا جواب ہمیشہ تشدد اور طاقت سے دیا جاتاہے۔ مگر ریاست کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بلوچ قوم اب لاشوں کے ساتھ جینے کی عادی ہوچکی ہے، بلوچ قوم اب لاشوں پر ”پرسہ“لینا بند کردیا ہے، خوف کو شکست دے چکی ہے۔
شال میں جاری پر امن دھرنا اسی مزاحمت کا ایک تسلسل ہے۔مائیں، بہنیں، نوجوان اور بزرگ سب ایک امید کے ساتھ اکھٹے ہوچکے ہیں کہ ان کی آواز عالمی برادری کے در و دیوار سے ٹکرائے۔ کیونکہ ریاست سے انصاف کی بھیک مانگنا انصاف کی توہین ہے۔ شاید کوئی جواب آئے، شاید کوئی شنوائی ہو، شاید دنیا دیکھے کہ قابض ریاست کس طرح پر امن مظاہریں پر سٹریٹ فائر کرتی ہے،خون میں لت پت لاشین دیتی ہے، اور جمہوریت کے دعویدارکس طرح بدمعاشی کی سیاہ چادر اوڑھ لیتے ہیں۔
یہ کوئی نئی بات نہیں، یہ تاریخ کا سبق ہے کہ ظلم جب انتہا کو پہنچتاہے،تو مزاحمت اس سے دو گناہ زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ طاقت کے نشہ میں چور قابض ریاست یہ سمجھتے ہیں کہ، بندوق اور گولی سے حق کی آوزاوں کو خاموش کرسکتاہے، مگر وہ بھول جاتاہے کہ ہر شہید کے گرتے لاش مزاحمت کی زنجیر میں ایک اور کڑی کا اضافہ کرتاہے۔ہر زخمی ہونے والے ہاتھ جب مٹھی میں خون کو دباتاہے، تو وہی خون پھر جبر کے ایوانوں پر گرتی ہے۔
اب بلوچ فرزندیں اور بلوچ بہنیں خود کو اس وطن کے لئے فدا کررہے ہیں۔ تو ریاست کو سمجھنا چاہیے کہ بلوچ کے لئے خوف و ہراس کی ریاستی پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ان مظاہرین کا جرم کیا تھا؟ کیا انصاف مانگنا اتنا بڑا جرم بن چکاہے کہ اس کی سزا گولیاں ہوں؟تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستی ظلم و جبر اور جنگی جرائم اپنی انتہاء کو پہنچتاہے، تو وہ خود ہی اپنا قبر کھودتاہے۔ شال کے مظاہرین نے اپنا مقدمہ تاریخ کے عدالت میں درج کردیاہے یہ فیصلہ وقت پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے اور باطل کا ایوان زمین بوس ہوجاتاہے۔
شاہد رند، سرفراز بگٹی، رحمن کھیتران، جو دل چائے کہو،جو جھوٹ چاہو پھیلاؤ، زمینی حقائق کو جھوٹ کے لبادے میں لپیٹو، الفاظ کو زہر آلود کرکے جو بیانیہ گھڑنا چاہتے ہو گھڑو۔تمہارے پاس سب کچھ ہے، طاقت ہے۔ فوج ہے۔ ٹینک ہیں، توپیں ہیں جیٹ اور ہر قسم کے ہتھیار ہیں،میڈیا ہے، خریدے گئے صحافی ہیں، کاسہ لیس دانشور ہیں،بناؤ کٹھ پتلی وزراء ہیں،عدالتیں تمہارے حکم پر چلتی ہیں۔مگریاد رکھو،تم ریت کی دیواروں پر کھڑے ہو۔سچ کو جھوٹ قرار دینے سے حقیقت نہیں بدلتا، مقبوضہ کی چیخیں دبادینے سے اس کی اذیت ختم نہیں ہوتی۔
بلوچ صدیوں سے ظلم و جبر کے اذیت سہتے آرہے ہیں، ساڑھے تین ہزار سال بلوچ جنگوں میں گزاری ہیں۔جبری گمشدگیوں کے نوحیں اب بلوچ وطن کے پہاڑوں پہ نقش ہوچکے ہیں۔ ماؤں کی فریادیں اب سمندر کی موجوں میں بہتے ہیں، اور نوجوانوں کے خوب اس گلزمین کے ریگزاروں سے محبت کرچکے ہیں۔
تم کہتے ہو کہ جو بلوچ کہ رہاہے، وہ جھوٹ ہے۔یا بلوچ کسی بیرونی ملک کے آلہ کار ہیں۔یاد رکھو یہ بلوچوں کا پیشہ نہیں رہاکہ وہ کسی کا پپٹ یا کسی کی پراکسی بنیں۔ یہ آلہ کاری تمہاری تاریخ کو سیاہ کرچکی ہے۔ کہ تم نے ہمیشہ دوسروں کے لئے ڈالر کے لئے جنگ کی ہے۔
بلوچ ایک مہذب اور تہذیب یافتہ قوم ہیں۔ کسی کے تنخواہ دار نہیں بلکہ اپنی وطن کے آزادی کے لئے لڑرہاہے۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا مستند سچ ہے۔ اور لاکھ جبر کے ذریعہ اس سچائی کو مسخ نہیں کیا جاسکتاتم سمجھ رہے ہو کہ امپرلسٹ ہمیشہ صحیح ہوتاہے اور نوآبادی قوم کی فریادیں بے وقعت ہوتی ہیں۔
یہی تمہاری سب سے بڑی غلطی اور تمہاری منہ پر طمانچہ ہے، تاریخ نے ہر نوآباد کار اور حملہ آور کے منہ پر یہ طمانچہ باربار جہنم رسید کیا ہے۔ میڈیا کے پردے پر تم جتنا چاہو جھوٹ پھیلاہو،لیکن تاریخ کے صفحات تمہارے بیان کردہ جھوٹ کو ہمیشہ مسترد کرتے رہیں گے۔جیسے محمد علی جناح کا جھوٹ مسترد ہوا،جیسے سکندر مرزا ایوب خان جنر ل ٹکاخان، جنرل ضیا ء اور مشرف کے دروغ گوئیوں کو مسترد کرچکاہے۔ سرفراز بگٹی آپ جھوٹ بولنے کا مشین ہو، آپ کا ایندھن ختم ہوجائے گا،اور آپ اپنے جھوٹے بیانیہ کے بوجھ تلے دب جاؤگے۔ تمہارے سیکرٹریٹ اور تمہاری فوجی مراکز بلوچ کے خون سے رنگے ہیں۔ جو تم نے بہایا یاد رکھو کہ خون ہمیشہ آزادی کے راستہ ہموار کرتاہے۔ یہ لال خون ہے۔ تمہارے خون کی طرح سفید،اور تمہارے ضمیر کی طرح مردہ نہیں ہیں۔ جبر اور قبضہ کا زوال حتمی ہے۔ آپ سے بڑے حملہ آور آئے۔لیکن ان کا آج نام و نشان نہیں۔ مظلوم کی طاقت اس کی سچائی ہوتی ہے، اور سچائی کو نہ گولی سے دبایا جاسکتاہے۔نہ جھوٹ پہ جھوٹ بول کر مسخ کیا جاسکتاہے۔ آپ قابض ضرور ہو طاقت ور ضرور ہو، لیکن بلوچ جدوجہد اور مزاحمت کی میزان میں تمہاری طاقت بدمعاشی کوئی معنی نہیں رکھتی۔قبضہ گیر کے لئے یہ پیغام منطقی ہے۔ تم جیتنے کے لئے نہیں، تاخیر کے لئے لڑرہے ہو۔ لیکن تمہارا انجام طے ہے تمہارے طاقت کو شکست کو ہوگی۔ اور فتح ہمارا مقدر ہوگا اور بلوچ دھرتی پر آزادی کا سورج دیر سویر ضرور طلوع ہوگا۔
بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد آپ سے حقوق مانگنے کا نہیں۔یہ لیپ ٹاپ یا اسکالر شپ لینے کا نہیں، ہارورڈ و آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھیجنے کا مطالبہ نہیں،یہ ایک قومی جنگ ہے۔ بلوچ کسی نسل کے خلاف نہیں بلکہ قبضہ کے خلاف ہے۔ اگر کوئی بلوچ بھی اس قبضہ میں شراکت دار بنتاہے تو وہ بلوچ نہیں، بلوچ کا دشمن بن جاتاہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان جیسے عوامی سیاسی راہنماہوں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست دلیل اور مکالمے کے ساتھ جمہوری جدوجہد کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں ریاست کی تشدد کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ نہ صرف سیاسی کارکن بلکہ شہداء کے لواحقین کو بھی نشانہ بنارہے ہیں۔ گولیاں چلانا، لاشیں غائب کرنا،اور مظاہرین کو اغواء کر نا غیر انسانی فعل ہے۔
آج کی جنریشن یہ سوگندھ لیاہے کہ وہ اپنی تمام علمی فکری اور روحانی قوتوں کو آزادی کے لے وقف کردیاہے۔ اوراس کے خاطر اپنے خاندان، رشتہ دار، تعلقات اپنی خواہشات اور بلا جھجک اپنی جان دینے کی قربانی دینے کے لے تیار ہوچکے ہیں۔بلوچ اب موت سے نہیں ڈرتی،کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ان کی موت نسلوں کو حوصلہ دیگی۔ اب بلوچ ماؤں بہنوں اور نوجوانوں کی مزاحمت، ہمت،جرائت اور حوصلوں کو پست نہیں کیا جاسکتا۔اپنے اصلاحات اپنے پاس رکھو بلوچ تحریک آزادی صرف بلوچ سرزمین کیلے حوصلہ کی نوید نہیں، بلکہ نوآبادیاتی ظلم کے شکار ہر اقوام کے لے مثالی ہے۔ اور آج بلوچ آزادی کی تحریک دنیا میں دوسری بڑی آزادی کی تحریک سمجھی جاتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔