تربت اور خاران میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔بی ایل ایف

112

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا کہ 28 فروری کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے دوپہر دو بجے کے وقت کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقہ میری میں قائم قابض فورسز کی چوکی پر پہلے گرنیڈ لانچر کے متعدد گولے داغے پھر اس کے بعد بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

انہوں نے کہاکہ سرمچاروں کے اس حملے میں دشمن فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے جبکہ چوکی کو بھی نقصان پہنچاہے۔ حملے کے بعد قابض فورسز کے اہلکار کافی دیر تک قریبی آبادیوں کی جانب فائرنگ کرتے رہے۔

مزید کہاکہ ایک اور کاروائی میں آج دوپہر بارہ بجے کے قریب بی ایل ایف کے سرمچاروں نے خاران کُلّان کے مقام پر تعمیراتی کمپنی کے سائٹ پر حملہ کرکے ایک ٹریکٹر سمیت مشینریز کو جلادیا،جبکہ وہاں موجود کام کرنے والے غیرمقامی افراد کو تنبیہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔

بیان کے آخر میں کہاکہ بی ایل ایف ان دونوں کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آزاد بلوچستان کے قیام تک پاکستانی فوج، فوجی تنصیبات اور استحصالی اقتصادی منصوبوں پر حملے جاری رہے گی۔