بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا کہ 28 فروری کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے دوپہر دو بجے کے وقت کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقہ میری میں قائم قابض فورسز کی چوکی پر پہلے گرنیڈ لانچر کے متعدد گولے داغے پھر اس کے بعد بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں کے اس حملے میں دشمن فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے جبکہ چوکی کو بھی نقصان پہنچاہے۔ حملے کے بعد قابض فورسز کے اہلکار کافی دیر تک قریبی آبادیوں کی جانب فائرنگ کرتے رہے۔
مزید کہاکہ ایک اور کاروائی میں آج دوپہر بارہ بجے کے قریب بی ایل ایف کے سرمچاروں نے خاران کُلّان کے مقام پر تعمیراتی کمپنی کے سائٹ پر حملہ کرکے ایک ٹریکٹر سمیت مشینریز کو جلادیا،جبکہ وہاں موجود کام کرنے والے غیرمقامی افراد کو تنبیہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔
بیان کے آخر میں کہاکہ بی ایل ایف ان دونوں کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آزاد بلوچستان کے قیام تک پاکستانی فوج، فوجی تنصیبات اور استحصالی اقتصادی منصوبوں پر حملے جاری رہے گی۔