تربت: بلوچ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج

33

بلوچ یکجہتی کمیٹی تربت کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جمعہ کی شام ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں مرد، خواتین، بچے اور بزرگ شریک ہوئے۔

شرکا نے تربت شہر کی مختلف گلیوں میں مارچ کیا جن کے ہاتھوں میں بینرز اور لاپتہ افراد کے تصاویر تھے انہوں نے مظالم اور جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرہ بازی کی۔ ریلی شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی شہید فدا چوک پر پہنچ کر ایک جلسے کی شکل اختیار کر گئی جہاں مقررین نے بلوچ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ، ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور بلوچ قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف سخت احتجاج کیا۔

جلسے میں لاپتہ دین جان، نصرم پیربخش کی بہن سمیت دیگر متاثرہ خاندانوں کی خواتین نے خطاب کرتے ہوئے اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ جلسہ سے معروف سیاسی کارکن ایڈووکیٹ محراب گچکی، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما حانی بلوچ اور سید بی بی نے خطاب کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، تعلیم، روزگار اور آزادی جیسے حقوق چھین لیے گئے ہیں جب کہ نوجوانوں کو اغوا کرکے زندانوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اب بلوچ اسکالرز اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

ریلی کے دوران مقررین نے بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار، ساحل وسائل پر قبضہ گیری اور سیندک پروجیکٹ کا ذکر کیا جسے مقامی بلوچوں کے بجائے بیرونی کمپنیوں کے حوالے کیا گیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ بلوچوں کو ان کے وسائل سے محروم کرکے انہیں بنیادی انسانی حقوق تک سے دور رکھا جا رہا ہے اور تعلیم کے دروازے بھی بند کیے جا رہے ہیں۔ ہمیں بک اسٹال لگانے کی اجازت تک نہیں دی جارہی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

بلوچ طلبہ پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر بات کرتے ہوئے مقررین نے شریف زاکر اور اللہ داد سمیت دیگر بلوچ اسکالرز کی ٹارگٹ کلنگ کی مثالیں دیں اور اس ریاستی جبر کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ریاست نے بلوچ اجتماعی آواز دبانے کے لیے کرایہ کے لوگ مقرر کیے ہیں جو ٹوکن اور چند مراعات کی خاطر اپنے بھائیوں کی مخبری کرتے ہیں اور انہیں جبری گمشدگی کا شکار بناتے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف یہ احتجاج بلوچستان کے ہر کونے تک پھیلائی جائے گی اور مظلوم بلوچوں کی آواز کو دبنے نہیں دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ خواتین اور بچیوں کی مزاحمت اور قربانیاں ریاستی جبر کو بے نقاب کرتی رہیں گی۔

جلسے کے اختتام پر لاپتہ دین جان کے اہلِ خانہ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اگر انہیں فوری طور پر بازیاب نہیں کیا گیا تو جدگال ڈن پر ایم-8 شاہراہ کو بلاک کیا جائے گا۔ اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پیارے کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کرایا جاتا۔احتجاج جاری رہے گا۔