عبداللہ اوجلان کی پی کے کے کو تحلیل کرنے کی اپیل، مسلح جدوجہد کے خاتمے کا اعلان

195

کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے بانی، عبداللہ اوجلان نے ایک تاریخی بیان میں تنظیم کی تحلیل اور مسلح جدوجہد کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

انکا یہ بیان استنبول کے ایلیٹ ورلڈ ہوٹل میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں پیش کیا گیا، جہاں کرد اور ترک سیاسی نمائندے، ممبران پارلیمنٹ، میئرز، صحافی، اور سول سوسائٹی کے افراد موجود تھے۔

کردش میڈیا میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اوجلان کا تحریری بیان ترک زبان میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن پروین بلدان اور کرد زبان میں تجربہ کار سیاستدان احمد ترک نے پڑھ کر سنایا۔

اوجلان نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ پی کے کے نے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے اور اب اس کا از خود خاتمہ ضروری ہے تاکہ کرد عوام اور ترک ریاست کے درمیان نیا جمہوری مفاہمتی عمل شروع ہو سکے۔

اوجلان نے کہا کہ پی کے کے کی تشکیل 20ویں صدی کی پرتشدد تاریخ عالمی جنگوں سرد جنگ، آزادیوں کے کچلے جانے اور کرد شناخت کے انکار کے نتیجے میں ہوئی تھی تاہم 1990 کی دہائی میں عالمی تبدیلیوں اور ترکی میں سیاسی اصلاحات کے باعث تنظیم اپنی معنویت کھو چکی ہے اور اب اس کے برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں۔

اپنے خط کے ذریعے کرد رہنماء نے پی کے کے کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک کانگریس بلائیں جس میں تنظیم کی باضابطہ تحلیل اور سیاسی عمل میں شمولیت کا اعلان کیا جائے۔

اوجلان کا کہنا تھا نظام سازی اور اس کے نفاذ کے لیے جمہوریت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں اور جمہوری مفاہمت ہی بنیادی طریقہ کار ہے، اوجلان کی اس خط کو ترکی کے کرد علاقوں، جیسے دیار باقر، وان، اور مرسین میں بڑی اسکرینوں پر عوام کو پڑھ کر سنایا گیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ عبداللہ اوجلان کو 1999 میں کینیا سے ترک خفیہ اداروں نے گرفتار کر کے ترکی کے ایک جزیرہ نما جیل میں قید کیا تھا، جہاں وہ آج بھی 26 سال بعد عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

تاہم پی کے کے کی موجودہ قیادت کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اوجلان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کردوں اور ترکوں نے 1000 سالہ تاریخ میں برادرانہ تعلقات قائم رکھے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ جدیدیت نے ان تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے اب وقت آ چکا ہے کہ تاریخی شراکت داری کو جمہوری اصولوں پر از سر نو استوار کیا جائے۔

عبداللہ اُجلان نے اپنے خط میں واضح طور پر کہا جس طرح ہر جدید تنظیم اور جماعت جو جبراً ختم نہیں کی گئی اپنی خودمختاری سے تحلیل ہونے کا فیصلہ کرتی ہے پی کے کے کو بھی اپنی کانگریس بلا کر ریاست اور سماج میں انضمام کا فیصلہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کردستان وطن کے آزادی کے لئے جاری تمام مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنے چاہئیں، اور پی کے کے کو تحلیل ہو جانا چاہیے۔