بدلتی عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے فارن ڈیپارٹمنٹ کے کوارڈینیٹر نیاز بلوچ نے پارٹی ممبران کے ایک پروگرام میں کہا ہے کہ موجودہ حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں بلوچ قوم کو اس کا ادراک ہونا چاہیے۔ امریکا میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی اس کی خارجہ پالیسی بدل چکی ہے جس کی پوری دنیا پر اثرات ہوں گے۔ امریکا اب ہر ملک کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو ہی ترجیح دے رہا ہے اور دوسروں کے مسائل سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جیسا کہ یوکرین کے معاملے میں امریکا روس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے ، جس میں یورپی ممالک اور خود یوکرین کی مرضی بھی شامل نہیں۔
انہوں نے کہا امریکا کے لیے اس کے اقتصادی معاملات اہم ہیں اور اس کا مدمقابل چین ہے جس کو وہ روکنا چاہتا ہے۔ ہمارے خطے میں سی پیک اور چین کے عرب ممالک پر اثرات چیلنجز ہیں جبکہ روس بھی ایک اہم طاقت ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا عالمی طاقتیں دنیا کے معاملات کو تبدیل کرنے کی استعداد رکھتی ہیں ان کے مفادات سے ہی مستقبل وابستہ ہے۔ چین گوادر میں نیول بیس بنانا چاہتا ہے جس سے مغربی طاقتیں خوش نہیں۔
نیاز بلوچ نے زور دیا کہ بیرون وطن مقیم بلوچ سیاسی عمل میں اپنی شرکت بڑھائیں اور عرب ممالک میں پاکستان کے لیے ہمدردی، حمایت اور امداد کو روکنے کی کوشش کریں۔ پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی وجہ سے دنیا میں ایک ناپسندیدہ ملک ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ آزاد بلوچستان خطے میں ایک پرامن ملک ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں داخلی انتشار میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کی تمام سرحدیں غیر محفوظ بن چکی ہیں۔ گلگت بلتستان، کشمیر حتی پنجاب کے اندر سے بھی پاکستانی فوج سے بیزاری کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان تمام عالمی بینکوں کا قرض دار ہے۔ پاکستان کے پاس کسی بڑے ملک کی کمپنی جتنے وسائل بھی نہیں رہے۔ بلوچستان کے ریسورسز سے صرف پنجاب کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں اقتدار کا مرکز بکھر چکا ہے اور بلوچستان پر پاکستان محض اپنی فوج کے ذریعے قابض ہے۔
یہ پروگرام بی این ایم کے ادارہ تعلیم و تربیت ( کیپسٹی بلڈنگ کونسل ) کے زیر اہتمام ہوا جس کی میزبانی بی این ایم کے کیچ گوادر ھنکین نے کی ۔