پاکستانی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے وزیر اعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے کسی بھی کونے بھی جلسہ کا انعقاد کرے شرط یہ ہے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا جلسہ روڈ کے اس پار ہو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔
انہوں نے کہاکہ میں نے سنا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گزشتہ روز میرے بیان کی مذمت کی ہے میرا وزیر اعلی بلوچستان سے معصومانہ سوال ہے، ان کے ایم پی اے اور پارلیمانی سیکریٹری کو جو روکا گیا تھا مریخ اور چاند پر تو نہیں روکا گیا تھا بلکہ بلوچستان میں روک کر اسکا اسلحہ چھینا گیا ، وہ اس بندوق کے چھوڑے بلکہ اس بندوق کا ایک گولی واپس کردے بہت بڑی بات ہوگئی ۔