شعبان سے برآمد مزید دو لاشوں کی شناخت ہوگئی

151

‎بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن میں سے تمام کی شناخت جبری طور پر لاپتہ افراد کے طور پر ہو چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 24 فروری کے روز شعبان سے برآمد ہونے والے چار لاشوں کی شناخت کرلی گئی، تمام چاروں لاشیں پہلے سے لاپتہ افراد کی ہیں۔

گذشتہ دنوں برآمد ہونے والے لاشوں کی شناخت حافظ محمد طاہر ولد حافظ محمد اکبر ہارونی اور زبیر احمد ہارونی ولد عبدالصمد ہارونی کے نام سے ہوئی جو گزشتہ سال دسمبر میں بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے گدر سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے۔

جبکہ مزید دو لاشوں کی شناخت شاہ زیب شاہوانی ولد رحمت اللہ، نعیم احمد شاہوانی ولد نور الدین شاہوانی سکنہ دشت سے ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شاہ زیب شاہوانی کو گذشتہ ماہ 7 جنوری کو لہڑی گیٹ کلی خیر اللہ سے لاپتہ کیا گیا تھا جبکہ نعیم احمد شاہوانی
2 جنوری کو خروٹ آباد کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنے تھے۔

‎واضح رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں کہ بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا ہو اس سے قبل بھی سی ٹی ڈی اور دیگر فورسز پر ایسے الزامات لگ چکے ہیں جن کے خلاف بلوچ عوام اور انسانی حقوق کے کارکنان مسلسل احتجاج کرتے رہے ہیں۔

گذشتہ روز ہی آواران سے انتظامیہ کو ایک شخص کی لاش ملی تھی جس کی شناخت مقامی شخص حمید اللہ کے طور پر ہوئی، جسے 15 دسمبر 2024 کو خضدار سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔

‎انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فورسز کے ہاتھوں زیر حراست افراد کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرے اور ملوث اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔