بلوچ قوم پرست رہنما جاوید مینگل نے سماجی رابطے کی ماہیکرو بلاگنگ ساہٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مستونگ میں اسکول کے معصوم بچوں پر بزدلانہ حملہ اور بے گناہ، معصوم بچوں کی شہادتیں ریاستی اداروں کی بربریت کی انتہا ہیں۔ بلوچ قومی تحریک، خصوصاً سیاسی مزاحمت کو کچلنے کے لیے بے گناہ بچوں کا خون بہایا گیا۔ پاکستانی فوج اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے ہولناک اقدامات کرتی ہے، جنہیں اس کے گماشتے انجام دیتے ہیں۔میر جاوید مینگل نے کہا کہ ایک ہی دن میں مستونگ میں 7 معصوم افراد کو شہید کر دیا گیا جبکہ راولپنڈی سے 10 بلوچ طلباء کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ دونوں واقعات ریاستی جبر، بلوچ نسل کشی اور ظلم کی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔
تازہ ترین
پروفیسر غمحوار حیات کی قربانی بلوچ قوم کے لیے ایک مقدس علامت بن چکی...
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے گذشتہ دنوں نوشکی میں قتل کئے گئے پروفیسر غمخوار حیات کی...
کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری، عبدالغفار مینگل کے لواحقین کی شرکت
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی...
گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر اساتذہ کی بازیابی کیلئے تربت میں احتجاج
گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، لیکچرر ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور ڈرائیور...
کوئٹہ، نوشکی: پروفیسر غمخوار حیات کی یاد میں ریلیاں، شمعیں روشن
منگل کے روز بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور نوشکی میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے ہاتھوں میں شمعیں روشن...
مستونگ: طلباء کا احتجاج، قومی شاہراہ بند، لیپ ٹاپ اسکیم اور انٹرنیٹ بندش کے...
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جامعہ بلوچستان سب کیمپس کے طلباء نے وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم میں مبینہ تاخیر اور...



















































