گہرام: سوالات جو اب بھی گونجتے ہیں – ساربان بلوچ

17

گہرام: سوالات جو اب بھی گونجتے ہیں

تحریر: ساربان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

میں نہیں جانتا کہ کسی ایسے شخص کے بارے میں کیسے لکھا جائے جو اب اس دنیا میں نہیں مگر اس کی یادیں اب بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ وقت کے ساتھ دھندلے نہیں پڑتے بلکہ اور واضح ہو جاتے ہیں، اور گہرام بھی شاید ایسا ہی تھا۔

میری اس سے پہلی ملاقات ایک عام دن پر ہوئی، مگر وہ دن اب عام نہیں لگتا۔ شروع میں وہ باقی سب کی طرح ہی تھا، مگر جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اس کی سوچ دوسروں سے مختلف ہے۔ وہ بات کرتے ہوئے کسی جھجھک کا شکار نہیں ہوتا تھا۔ اسے اس بات کی پروا نہیں تھی کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچیں گے۔

ہم اکثر اکٹھے بیٹھتے، باتیں کرتے اور کئی بار بحث بھی ہوتی تو اس کی باتوں میں ایک شدت ہوتی تھی اور میری باتوں میں ایک نرمی ہوتی تھی۔ وہ حقیقت کو جیسے ہے، ویسے دیکھتا تھا اور میں اسے بدلنے کی امید رکھتا تھا۔ شاید یہی فرق ہماری گفتگو کو معنی دیتا تھا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ہم ایک ہی موضوع پر بالکل مختلف رائے رکھتے تھے مگر پھر بھی ایک دوسرے کو سننا نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ اپنے مؤقف پر مضبوط رہتا اور میں اپنے سوالات پر قائم رہتا تھا، اور کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ وہ بہت سخت ہے اور شاید اسے لگتا ہوگا کہ میں بہت نرم ہوں۔

ایک دن اس نے خاموشی سے کہا: “ہر انسان اپنے حالات کا نتیجہ ہوتا ہے۔” اس جملے میں ایک عجیب سی تھکن تھی جیسے وہ بہت کچھ دیکھ چکا ہو اور بہت کچھ سمجھ چکا ہو۔ وقت کے ساتھ ہماری ملاقاتیں کم ہوتی گئیں مگر ہر ملاقات میں ایک انجانی سی اداسی شامل ہو گئی تھی، جیسے ہم دونوں جانتے ہوں کہ یہ لمحے زیادہ دیر نہیں رہیں گے۔

پھر ایک دن خبر آئی کہ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔ خبر سن کر ایک لمحے کے لیے سب کچھ ساکت ہو گیا۔ کچھ لوگ صرف چلے نہیں جاتے، وہ اپنے ساتھ بہت کچھ لے جاتے ہیں اور بہت کچھ چھوڑ بھی جاتے ہیں، اور گہرام نے بھی کچھ ایسا ہی کیا۔ وہ اپنے سوالات، اپنی باتیں، اپنی خاموشیاں اور سب کچھ ہمارے اندر چھوڑ گیا۔ آج بھی کبھی کبھی اس کی آواز ذہن میں گونجتی ہے جیسے وہ اب بھی کسی بحث کے لیے تیار ہو۔

میں آج بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ صحیح تھا یا میں، مگر ایک بات ضرور ہے کہ اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا، سوال کرنے کی ہمت دی، اور شاید یہی کسی انسان کا سب سے بڑا اثر ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہانی نہیں بنتے بلکہ وہ احساس بن جاتے ہیں۔ گہرام بھی شاید ایک ایسا ہی احساس تھا جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوگا۔

اب کبھی کبھی میں خاموش بیٹھ کر سوچتا ہوں کہ کچھ لوگ مر کر بھی ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمارے اندر زندہ رہتے ہیں، ہمارے سوالوں میں، ہماری الجھنوں میں، ہماری ہمت میں زندہ رہتے ہیں۔
گہرام بھی شاید کہیں نہیں گیا… وہ اب بھی وہیں ہے، ہر اُس لمحے میں جب میں سچ بولنے سے ڈرتا ہوں اور پھر ہمت کر کے بول دیتا ہوں۔ وہ ہر اُس سوال میں ہے جو میں پوچھنے سے ہچکچاتا ہوں، مگر پھر بھی پوچھ لیتا ہوں۔ شاید کچھ لوگ قبروں میں نہیں، انسانوں کے اندر دفن ہوتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لیے زندہ رہتے ہیں۔

اور گہرام… وہ انہی زندہ لوگوں میں سے ایک ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔