گرامشی، بلوچستان اور بیانیے کی جنگ – اشنام بلوچ

20

گرامشی، بلوچستان اور بیانیے کی جنگ

تحریر: اشنام بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

انتونیو گرامشی 22 جنوری 1891 کو ساردینیا، اٹلی میں پیدا ہوئے اور 27 اپریل 1937 کو روم میں وفات پائی۔ وہ ایک اطالوی مارکسی فلسفی، ماہرِ لسانیات، صحافی، مصنف اور سیاست دان تھے۔ گرامشی اطالوی کمیونسٹ پارٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے اور اس کے فکری و تنظیمی ڈھانچے میں مرکزی کردار ادا کرتے رہیں۔

بچپن ہی سے کمزور صحت کے باوجود، گرامشی نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سیاسی جدوجہد اور مزدور تحریک کے لیے وقف کیا۔ ان کی زندگی کا المیہ یہ رہا کہ ان کی فکری توانائی کا بڑا حصہ قید و بند کی صعوبتوں میں صرف ہوا۔ 1926ء میں بینیٹو مسولینی کی فاشسٹ حکومت نے انہیں گرفتار کیا، اور مقدمے کے دوران سرکاری وکیل کا یہ جملہ تاریخ کا حصہ بن گیا کہ: “ہمیں اس دماغ کو بیس سال تک کام کرنے سے روکنا ہوگا۔” گرامشی تقریباً گیارہ سال جیل میں رہے، اور اسی اسیری کے دوران انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف Prison Notebooks تحریر کی، جو آج بھی جدید سیاسی و سماجی فکر کا ایک بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے۔

گرامشی کی فکری اہمیت کا مرکز ان کا نظریہ “ثقافتی بالادستی” (Cultural Hegemony) ہے۔ مارکس کے برعکس، جو معاشی بنیاد (Base) کو سماجی ڈھانچے کا تعین کنندہ قرار دیتا تھا، گرامشی نے اس تصور کو وسعت دیتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ صرف معاشی طاقت کے ذریعے نہیں، بلکہ ثقافت، تعلیم، میڈیا، مذہب اور فنون کے ذریعے بھی اپنی حکمرانی قائم رکھتا ہے۔ یوں طاقت کا اصل سرچشمہ صرف جبر نہیں بلکہ ذہنوں پر گرفت ہے۔

گرامشی کے مطابق، حکمران طبقہ اپنے نظریات کو اس انداز میں پھیلاتا ہے کہ وہ عام لوگوں کے لیے “کامن سینس” بن جاتے ہیں۔ یعنی وہ چیزیں جو درحقیقت کسی خاص طبقے کے مفاد کی نمائندگی کرتی ہیں، پورے معاشرے کے لیے فطری اور ناقابلِ سوال حقیقت بن جاتی ہیں۔ جب لوگ اپنی ہی محرومی کو مقدر اور طاقتور کے اقتدار کو ناگزیر سمجھنے لگیں، تو یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ثقافتی بالادستی مکمل ہو جاتی ہے۔

گرامشی نے طاقت کے دو بنیادی طریقوں کی نشاندہی کی: جبر (Coercion) اور رضامندی (Consent)۔ جبر ریاستی اداروں جیسے فوج، پولیس اور عدالتوں کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے، جبکہ رضامندی سول سوسائٹی کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ اسکول، میڈیا، مذہب، خاندان اور ادبی و ثقافتی ادارے وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے حکمران طبقہ اپنے نظریات کو عام فہم سچائی میں بدل دیتا ہے۔ اسی لیے گرامشی کے نزدیک اصل میدانِ جنگ بندوق نہیں بلکہ ذہن ہے۔

اسی تناظر میں گرامشی “کامن سینس” کی تشکیل کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ جب ایک عام فرد یہ ماننے لگے کہ “دنیا ایسے ہی چلتی ہے” یا “نظام کو بدلنا ممکن نہیں”، تو درحقیقت وہ ایک ایسے فکری جال میں پھنس چکا ہوتا ہے جسے حکمران طبقے نے بڑی مہارت سے بُنا ہوتا ہے۔

گرامشی نے دانشوروں کے کردار کو بھی ازسرِ نو متعین کیا۔ ان کے مطابق ہر طبقہ اپنے دانشور پیدا کرتا ہے۔ روایتی دانشور خود کو غیر جانبدار ظاہر کرتے ہیں، مگر عملاً وہ موجودہ نظام کے تسلسل کو یقینی بناتے ہیں۔ اس کے برعکس، “نامیاتی دانشور” (Organic Intellectuals) وہ ہوتے ہیں جو کسی مخصوص طبقے سے ابھرتے ہیں، اس کی زبان میں بات کرتے ہیں اور اس کے تجربات کو فکری شکل دیتے ہیں۔ گرامشی کے نزدیک، کسی بھی حقیقی تبدیلی کے لیے ایسے دانشوروں کا ابھرنا ناگزیر ہے۔

ان کے نظریے کا ایک اور اہم پہلو “پوزیشن کی جنگ” (War of Position) ہے۔ گرامشی کے مطابق انقلاب محض ہتھیار اٹھانے سے برپا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے ایک طویل فکری جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ اسکولوں، اخبارات، ثقافتی اداروں اور سماجی ڈھانچوں میں اپنا بیانیہ مضبوط کرنا اس جنگ کا بنیادی حصہ ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک متبادل شعور تشکیل پاتا ہے، جو بالآخر غالب بیانیے کو چیلنج کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

اسی سے جڑا ہوا تصور “جوابی بالادستی” (Counter-Hegemony) کا ہے۔ گرامشی کے نزدیک اگر محکوم طبقہ حقیقی تبدیلی چاہتا ہے تو اسے اپنے نظریات، اپنی ثقافت اور اپنی فکری روایت کو منظم کرنا ہوگا۔ اسے ایک ایسا متبادل بیانیہ تخلیق کرنا ہوگا جو نہ صرف حکمران طبقے کے بیانیے کو بے نقاب کرے بلکہ عوام کو ایک نئی فکری سمت بھی فراہم کرے۔

گرامشی کا ایک معروف قول ہے: “میرا ذہن مایوسی کا شکار ہے، لیکن میرا ارادہ پرامید ہے۔” اس جملے میں ان کی پوری فکری جدوجہد کا نچوڑ سمٹ آتا ہے حالات کی سنگینی کا ادراک، مگر تبدیلی کی امکان پر یقین۔

گرامشی کے نظریات کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ طاقت، شناخت اور شعور کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک کلید ہیں۔ خاص طور پر وہ معاشرے جہاں طاقت کا استعمال صرف ریاستی جبر تک محدود نہیں بلکہ زبان، تاریخ اور ثقافت کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے، وہاں گرامشی کی فکر ایک نئے زاویے سے حقیقت کو دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: جب ایک غالب قوت اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنی اقدار کو دوسروں پر مسلط کرتی ہے، تو محکوم طبقے کی شناخت کس حد تک متاثر ہوتی ہے؟ کیا وہ اپنی تاریخ، اپنی زبان اور اپنے بیانیے سے دور نہیں ہو جاتا؟ اور اگر ایسا ہے، تو کیا یہ بھی ثقافتی بالادستی کی ایک شکل نہیں۔

اگر گرامشی کے نظریۂ ثقافتی بالادستی کو مقبوضہ بلوچستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہتی، بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہاں طاقت کا استعمال صرف بندوق اور فوجی آپریشن تک محدود نہیں، بلکہ ایک منظم فکری اور ثقافتی حکمتِ عملی کے ذریعے بھی کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بلوچ شناخت، تاریخ اور شعور کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہے۔

قابض ریاست کی پہلی اور سب سے مؤثر حکمتِ عملی تعلیمی اداروں اور نصاب کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔ اسکولوں اور جامعات میں پڑھایا جانے والا نصاب ایک مخصوص نام و نہاد بیانیے کو فروغ دیتا ہے، جس میں بلوچ تاریخ کو یا تو سرے سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا اسے اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ ریاستی مؤقف سے ہم آہنگ نظر آئے۔ گرامشی کے الفاظ میں، یہی وہ مقام ہے جہاں “کامن سینس” تخلیق کیا جاتا ہے یعنی نئی نسل یہ ماننے لگتی ہے کہ یہی بیانیہ سچ ہے، اور اس کے علاوہ کوئی متبادل حقیقت موجود نہیں۔

اسی سلسلے کی ایک کڑی حالیہ ادبی و ثقافتی سرگرمیاں ہیں، جو خاص طور پر مکران، بالخصوص گوادر اور تربت میں منعقد کی گئیں۔ بظاہر یہ پروگرام ادب، ثقافت اور مکالمے کے فروغ کے لیے ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک نرم مگر گہری حکمتِ عملی کا حصہ ہوتے ہیں، جس کے ذریعے ایک مخصوص ثقافتی شناخت کو “قابلِ قبول” اور “مرکزی” بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مقامی بیانیے کو حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ وہی “رضامندی” (Consent) پیدا کرنے کا عمل ہے جسے گرامشی طاقت کی اصل بنیاد قرار دیتا ہے۔

مزید برآں، بلوچ سماج کو زبان اور شناخت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی حالیہ کوششیں بھی اسی ثقافتی بالادستی کی ایک شکل ہیں۔ جب ایک قوم کو اندرونی لسانی یا علاقائی خطوط پر تقسیم کیا جاتا ہے، تو اس کی اجتماعی مزاحمت کمزور پڑ جاتی ہے۔ گرامشی کے مطابق، حکمران طبقہ صرف اپنے بیانیے کو مسلط نہیں کرتا بلکہ متبادل بیانیوں کو باہم متصادم بھی کرتا ہے، تاکہ کوئی مضبوط مشترکہ شعور ابھر نہ سکے۔

دوسری جانب، ریاستی جبر کو ایک نئے لغوی پردے میں چھپایا جا رہا ہے۔ جبری قبضے، فوجی کارروائیوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بلوچ نسل۔کشی کو “کاؤنٹر انسرجنسی”، “اسمارٹ کائنیٹکس آپریشنز” اور “ریاستی سالمیت” جیسے اصطلاحی پردوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ ایک شعوری حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے حقیقت کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ قابلِ جواز محسوس ہو۔ گرامشی کے مطابق، یہی وہ مقام ہے جہاں زبان خود طاقت کا آلہ بن جاتی ہے جہاں ظلم کو نظم و ضبط، اور مزاحمت کو بغاوت کا نام دے کر ایک نیا “کامن سینس” تخلیق کیا جاتا ہے۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اس پورے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ بلوچ مزاحمت کو مسلسل ایک مخصوص نسلی زاویے سے پیش کرنا، اسے “دہشت گردی” یا “نسلی تعصب” کے ساتھ جوڑنا، اور “پنجابی قتل عام” جیسے بیانیوں کو فروغ دینا دراصل ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف مزاحمت کی اخلاقی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوشش کیا جاتا ہے بلکہ ایک ایسا ماحول بھی پیدا کیا جاتا ہے جس میں اصل مسئلہ یعنی طاقت، وسائل اور قومی سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

یہاں گرامشی کا تصور “نامیاتی دانشور” خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ جب ریاستی بیانیہ میڈیا، نصاب اور ثقافتی اداروں کے ذریعے مسلسل دہرایا جائے، تو اس کے مقابلے میں ایک متبادل بیانیہ صرف اسی صورت میں ابھر سکتا ہے جب وہ خود اسی سماج کی کوکھ سے جنم لے۔ ایسے دانشور، لکھاری اور کارکن جو بلوچ سماج کے تجربات، درد اور تاریخ کو اپنی زبان میں بیان کریں، دراصل اسی “جوابی بالادستی” (Counter-Hegemony) کی بنیاد رکھتے ہیں جسے گرامشی کسی بھی حقیقی تبدیلی کے لیے لازمی قرار دیتا ہے۔

اسی تناظر میں “پوزیشن کی جنگ” ایک زندہ حقیقت بن جاتی ہے۔ یہ جنگ صرف پہاڑوں یا میدانوں میں نہیں لڑی جا رہی، بلکہ نصاب، میڈیا، ادب، زبان اور ثقافت کے میدان میں بھی جاری ہے۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما عمل ہے، جس میں بیانیے تشکیل پاتے ہیں، ٹوٹتے ہیں اور دوبارہ بنائے جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون سا بیانیہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون سا بیانیہ عوام کے شعور میں جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگر اس پوری صورتِ حال کو گرامشی کی نظر سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ایک سیاسی یا عسکری تنازع نہیں، بلکہ ایک گہری فکری اور ثقافتی کشمکش ہے ایک ایسی کشمکش جس میں ایک طرف طاقت کے تمام روایتی و جدید ذرائع موجود ہیں، اور دوسری طرف قومی شناخت، بقاء اور حقِ بیان کی جدوجہد۔

بلوچ قوم کو اگر اپنی شناخت بچانی ہے تو اسے اپنی “جوابی بالادستی” (Counter-Hegemony) قائم کرنی ہوگی۔ اسے اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنے بیانیے کو خود منظم کرنا ہوگا۔ جب تک بلوچ سماج کے اپنے دانشور اپنی کہانی اپنی زبان میں بیان نہیں کریں گے، تب تک سچ کی تعریف وہ قابض قوت کرتی رہے گی جس کے ہاتھ میں قلم اور بندوق دونوں ہیں۔

آخر میں سوال یہی بچتا ہے: آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں کون سا کامن سینس راسخ ہو رہا ہے؟ کیا وہ قابض ریاست کا تھوپا ہوا بیانیہ ہوگا یا ان کی اپنی مٹی سے پھوٹتا ہوا سچ؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔