ویڈیوز ریکارڈ کروانے اور لاتعلقی کے بیانات پر مجبور کرنا انسانی وقار اور شہری آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔بی وائی سی

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان میں پرامن سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی ہراسانی، دباؤ اور خوف و ہراس کے ماحول پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود عدم اعتماد کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی سے وابستہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو سیکیورٹی مراکز میں طلب کیا جا رہا ہے، جہاں ان پر دباؤ ڈال کر ویڈیوز ریکارڈ کروائی جا رہی ہیں اور انہیں تنظیم سے لاتعلقی کے بیانات دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق ایسے اقدامات خوف اور جبر کے تحت کروائے جا رہے ہیں، جو انسانی وقار اور بنیادی شہری آزادیوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف ایک پرامن تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں بلکہ وسیع تر عوام میں خوف پھیلانے کا ذریعہ بھی بن رہی ہیں، جس کا مقصد لوگوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرنا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان کے آئین سے متصادم ہیں، جہاں آرٹیکل 19 ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 16 پرامن اجتماع کے حق کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ افراد کو زبردستی بیانات دینے پر مجبور کرنا یا انہیں پرامن سرگرمیوں سے روکنا آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ طرزِ عمل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور (آرٹیکل 19 اور 20) اور بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کے آرٹیکلز 19، 21 اور 22 کے بھی منافی ہے، جن کی پاسداری کا پاکستان پابند ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کے محافظین، میری لاولر، کی جانب سے پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان کو درپیش ہراسانی پر حالیہ تشویش کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پرامن آوازوں کو دبانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس سے زخم گہرے ہوتے ہیں، اعتماد کمزور پڑتا ہے اور عوام و ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ بلوچ شہریوں کے خلاف ہراسانی، جبر اور دھمکیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور ہر فرد کو آزادی کے ساتھ اپنی رائے کے اظہار، پرامن تنظیم سازی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق دیا جائے۔

بیان کے آخر میں قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں، اپنی آواز بلند کریں اور پاکستانی حکام کے ساتھ رابطہ کر کے بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پرامن جدوجہد، شعور بیداری اور قانونی و انسانی بنیادوں پر انصاف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گے۔