عشقِ وطن کی ایک خاموش داستان – شاری بلوچ

36

عشقِ وطن کی ایک خاموش داستان

تحریر: شاری بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

سفیان جان میرے لیے صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ ایک خوبصورت احساس تھا۔ اس کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ آج بھی مجھے یاد ہے۔ اس کا ہر بات پر مسکرانا، اس کی خاموش مزاجی، اور اس کی خاموشی میں بھی بہت کچھ چھپا ہوتا تھا۔ اس کی آنکھوں کی نرمی اور انداز میں سنجیدگی تھی۔ وہ کم لفظوں میں بھی بہت کچھ کہہ دیتا تھا۔

سفیان جان کے ساتھ مجھے بہت کم وقت ملا۔ آج بھی وہ سب یادیں تازہ ہیں۔ ایک دفعہ ہم سفر پر جا رہے تھے اور گاڑی میں استاد کے گانے چل رہے تھے۔ جب گانا آیا “بلوچستان دنا ءِ” تو میں نے کہا: “یہ لوگ بھی کتنے عجیب ہیں، سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کس کا ہے، ہم بلوچوں کا ہی تو ہے۔”
سفیان جان نے مجھے نرم لہجے میں کہا: “تم ان باتوں کو ابھی نہیں سمجھو گی، یہ بہت گہرے لفظ ہیں۔”

سفیان جان کے ساتھ وہ آخری ملاقات آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ جب وہ جا رہا تھا تو آخری رخصت کے لیے آیا۔ کچھ دیر بیٹھا، باتیں کیں اور پھر اللہ حافظ کہہ کر چلا گیا۔ مجھے کیا پتا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی۔ اس کے بعد ہم کبھی نہیں ملے۔

وہ اس راستے پر نکل پڑا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اتنی چھوٹی عمر میں وہ اتنا بہادر نکلا، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اس کی سوچ ہم سب سے الگ تھی۔ اس کے دل میں اپنے وطن کے لیے ایک الگ جذبہ تھا، ایک گہری محبت تھی۔

ایک دفعہ میں نے اس سے کہا: “سفیان جان، میں قربان آپ پر۔”
تو اس نے جواب دیا: “میں تو قربان اپنے وطن کے لیے ہوں، اپنے گُلِ زمین کے لیے، اپنے شہیدوں کے لیے ہوں۔”
میں چپ ہو گئی۔ اس وقت احساس ہوا کہ اسے اپنے وطن سے کتنی گہری محبت ہے۔

سفیان جان آخری سانس تک وطن کے ساتھ مخلص رہا۔ وطن کے لیے وفاداری کی ایک زندہ مثال تھا۔ وہ سادہ اور خاموش طبیعت کا مالک تھا، مگر وطن کا نام آتے ہی اس کا دل بھر آتا تھا۔ اسے اپنی سرزمین سے گہرا لگاؤ تھا۔ کم لفظوں میں بھی وہ یہ احساس دلا دیتا تھا کہ اپنے وطن سے محبت انسان کی اصل پہچان ہوتی ہے۔

سفیان جان کا جذبہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ تو ہمارے درمیان نہیں رہا، مگر اس کی سوچ، اس کا پیغام اور اس کا عشقِ وطن ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ سفیان جان ہر دل میں زندہ ہے، شہید بن کر، سرمچار بن کر زندہ ہے۔

اللہ ہمیں بھی سفیان جان جیسی ہمت دے کہ ہم اپنے وطن پر قربان ہو سکیں۔ اس کی سادگی اور سچی محبت اسے ہمارے لیے ہمیشہ قابلِ فخر بناتی رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔