بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
کے مرکزی ترجمان شولان بلوچ نے کہا ہے کہ شہدائے مرگاپ کے ستروئیں برسی پر عظیم شہداء کو حراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ شہید غلام محمد، شہید شیر محمد اور لالا منیر کی شہادت بلوچ قومی تحریک کی تاریخ میں دردناک باب کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر انکی زندگیاں اور سیاسی کردار و بصیرت بلوچ قومی سیاست اور جہدِ آزادی میں مشعلِ راہ ہیں جن سے ہر عہد میں بلوچ کے لئے بے بہا اسباق پنہاں ہیں۔ ان کے سیاسی سوچ و عمل اور پارٹی سیاست کو بلوچ تحریک میں ایک جامہ کردار بخشنا جیسے اقدامات نے دشمن کے لئے ان کو ناقابلِ برداشت بنایا اسی لئے ان کی شہادت کو محض ایک واقعہ سمجھنا حقیقت سے انحراف ہوگا۔ کیونکہ طاقتور خیالات اور بلند سیاسی بصیرت کے مالک اور دانشورانہ صلاحیتیوں کو ہر دور کے دشمن اپنے لئے باعثِ خطرہ سمجھتے ہیں اور انہیں متعدد پالیسیوں کے ذریعے روکنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ اسی طرح ان رہنماؤں کی شہادت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح سیاسی سوچ، تنظیمی جدوجہد اور قومی شعور کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی جو ہر عہد کے سفاک و قبضہ گیر قوتوں کا وطیرہ رہا ہے۔ شہدائے مرگاپ کی شہادت دراصل ایک وسیع تر ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے جسکی جڑوں کو بلوچ نسل کُشی کے منظم تناظر میں دیکھا جائے۔
انہوں نے کہاکہ شہید غلام محمد کا کردار بلوچ قومی تحریک کے سیاسی منظرنامے میں نہایت اہم ہے۔ وہ محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک دانشور اور پارٹی سیاست کے اصولی معماروں میں ایک تھے، جنہوں نے خالص آزادی پسند بلوچ قومی پارٹی کے قیام کے خیال کو عملی جامہ پہنایا۔ آپ شہید فدا احمد بلوچ کے تصورِ قیامِ پارٹی کو عملی شکل دینے والے چند اہم شخصیات میں مرکزی کردار تھے کہ جس نے بلوچ جہدِ آزادی کے کاروان میں ایک ایسے موڈ پر تاریخی فیصلہ لیا جہاں اکثر یہی تصور کیا جاتا تھا کہ غیرپارلیمانی حیثیت کے حامل پارٹی کا وجود ناممکن ہے۔ مگر آپ نے اپنے دانشورانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے اس حقیقت کو بدل ڈالا اور تصورِ فدا کو حتمی شکل میں پرو کر بلوچ نیشنل موومنٹ کا قیام عمل میں لایا۔ آپ کا تصورِ پارٹی محض اقتدار کے حصول تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ اسے ایک فکری، تنظیمی اور عوامی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے تھے جہاں نظریاتی پختگی، انقلابی رویہ اور اجتماعی فیصلہ سازی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ شہید غلام محمد نے بلوچ سیاست میں شخصی مرکزیت کے بجائے ادارہ جاتی سیاست پر زور دیا۔
مزید کہاکہ یہی فکری تسلسل ایک نظریاتی اور تنظیمی ڈھانچے میں تبدیل ہوا، جس نے بلوچ سیاست میں ایک تجدید باب کا آغاز کیا۔ اس عمل نے یہ ثابت کیا کہ ایک کامیاب قومی تحریک صرف نعروں یا وقتی سرگرمیوں سے نہیں بلکہ مضبوط نظریاتی بنیاد، واضح تنظیمی ڈھانچے اور مسلسل فکری تربیت سے تشکیل پاتی ہے۔ ان کے نزدیک پارٹی ایک زندہ ادارہ ہوتی ہے جو عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ اسی طرز فکر کو لئیے وہ ایک قومی رہنما کی حیثیت سے سامنے آئے، انہوں نے اپنے طرزِ سیاست میں عوام کو مرکزیت کا درجہ دیا اور ہر مکتبہِ فکر کو قومی جدوجہد کے ساتھ جوڑنے میں تاحیات برسرِ عمل رہے۔ ان کی جدوجہد نے اس بات کی بنیاد فراہم کی کہ سیاسی تحریک کو ادارہ جاتی، منظم اور نظریاتی طور پر مضبوط ہونا چاہیے۔
ترجمان نے کہاکہ تاریخ کے پنے گواہ ہیں ایسے قدآور انقلابی فکر کے حامل اکثر ظالم قوتوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ کیونکہ ریاستی سطح پر سیاسی رہنماؤں اور ایسے قائدانہ شخصیات کے خلاف کریک ڈاؤن محض افراد کو نشانہ نہیں بناتا بلکہ پورے معاشرے کے سیاسی ارتقاء کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے پالیسیاں آج بھی اپنے شدت اور نت نئے اشکال کے ساتھ بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ آج بھی بلوچ سیاسی کارکنان، طلباء اور دانشور اسی نوعیت کے دباؤ، جبری گمشدگیوں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل موجود ہے۔
آخر میں کہاکہ شہدائے مرگاپ اور ان کے انقلابی فکر کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ نظریہ، تنظیم اور قربانی مل کر ایک ایسی طاقت تشکیل دیتے ہیں جو وقت کے دباؤ کے باوجود اپنی سمت برقرار رکھتی ہے۔ شہید غلام محمد شہید شیر محمد اور لالا منیر کی عظیم قربانیاں بلوچ قومی تحریک میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں، اس فکری میراث کو سمجھنا اور آگے بڑھانا ہماری قومی بقاء اور آزادی کے لیے ناگزیر ہے۔ بلوچ عوام اور طلباء کے لیے ان شہداء کی جدوجہد، انقلابی فکر اور انکی قربانیاں اس بات کی علامت ہیں کہ نظریات کو دبایا جا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی جدوجہد آج بھی زندہ ہے اور بلوچ سیاسی شعور میں ایک مستقل حوالہ بن چکی ہے جس سے بلوچ سبق آموز ہو کر اپنے منزل کو پہنچنے میں کامیاب ہوگی۔
















































