بلوچستان: مختلف علاقوں سے 4 افراد جبری لاپتہ، خاتون سمیت 9 بازیاب

11

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدگیوں اور بعد ازاں بعض افراد کی بازیابی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ضلع پنجگور کے علاقے پروم کے رہائشی چار افراد کو حالیہ دنوں میں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ لاپتہ افراد میں محسن ولد مسلم، یحییٰ ولد محمد یاسین اور عبدالاہد ولد ملا نزار شامل ہیں، جنہیں 16 مارچ 2026 کی صبح جیرک کراسنگ پوائنٹ، پروم پنجگور سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا۔

اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے کریم ولد عبدالراشد، جو زمیاد ڈرائیور ہیں، کو 2 اپریل 2026 کو دوپہر ڈھائی بجے جوسک، تربت سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کریم اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں۔

دوسری جانب بعض افراد کی بازیابی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ کوئٹہ کے علاقے جیلانی روڈ کے رہائشی فہیم سملانی ولد محمد عثمان کو یکم مارچ 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 21 مارچ کو ائیرپورٹ روڈ، کوئٹہ سے رہا کر دیا گیا۔

خضدار کے علاقے گزگی سے تعلق رکھنے والی خاتون حیات بی بی دختر احمد، جن کا مستقل تعلق آواران کے علاقے نوکجو مشکے سے ہے، کو 20 فروری 2026 کو حراست میں لیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں خضدار میں رہا کر دیا گیا۔

گوادر کے رہائشی نظام ولد حمید، جو 8 دسمبر 2025 سے لاپتہ تھے، 20 مارچ 2026 کو بازیاب ہوئے۔

خضدار کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے یاسر احمد ولد گل محمد (لاپتہ: 5 جون 2023) اور نوید احمد ولد عبدالراشد (لاپتہ: 29 اپریل 2023) کو بھی 18 مارچ 2026 کو کوئٹہ میں رہا کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اسی طرح سوراب کے مختلف علاقوں سے 28 مارچ 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد، جن میں وحید بلوچ ولد محمد توبل، اکرم بلوچ ولد حاجی عالم خان، ستار بلوچ ولد عبدالخالق اور عبدالغفار بلوچ ولد عبدالخالق شامل ہیں، کو 31 مارچ 2026 کو مین آر سی ڈی روڈ، سوراب پر رہا کر دیا گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جبکہ لواحقین کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی اپیلیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو منظرعام پر لایا جائے