برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ تقریباً 40 ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایران کو ’’عالمی معیشت کو یرغمال بنانے‘‘ سے روکا جا سکے۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس آبی راستے کی حفاظت دیگر ممالک کی ذمہ داری ہے۔
برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے ایک آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ کارروائی، یعنی اس اہم آبی راستے کی ناکہ بندی، عالمی معاشی سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
اس اجلاس میں فرانس، جرمنی، کینیڈا، متحدہ عرب امارات اور بھارت سمیت کئی ممالک نے شرکت کی۔ ایک عہدیدار کے مطابق امریکہ نے ان مذاکرات میں شرکت نہیں کی۔
میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں کوپر نے کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ ایران نے ایک بین الاقوامی سمندری راستے کو ہائی جیک کر کے عالمی معیشت کو یرغمال بنا لیا ہے۔‘‘
ایران نے فروری کے آخر میں شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اس اہم آبی راستے کو بند کر دیا۔ اس راستے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک بہت کم رہ گئی ہے اور جو جہاز اب بھی گزر رہے ہیں ان میں زیادہ تر وہ ٹینکر ہیں جو پابندیوں سے بچ کر ایرانی تیل لے جا رہے ہیں۔ ایران یہ بھی طے کر رہا ہے کہ کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔
لیکن موجودہ جنگ کے دوران کوئی ملک فوجی طاقت کے ذریعے اس راستے کو کھولنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا کیونکہ ایران کے پاس جہاز شکن میزائل، ڈرون، تیز رفتار حملہ آور کشتیاں اور سمندری بارودی سرنگیں موجود ہیں۔
فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھولنا ’’غیر حقیقت پسندانہ‘‘ ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے اس راستے کو دوبارہ کھولنا ایک اہم ترجیح بن گیا ہے۔
یوویٹ کوپر نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد فوجی اقدامات کے بجائے سیاسی اور سفارتی طریقوں پر غور کرنا ہے تاکہ اس راستے کو دوبارہ کھولا جا سکے۔
کوپر کے مطابق تیل اور خوراک کی قیمتوں میں ناقابلِ برداشت اضافہ دنیا بھر کے گھروں اور کاروباروں کو متاثر کر رہا ہے۔
اس دوران برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، جاپان اور متحدہ عرب امارات سمیت 30 سے زیادہ ممالک نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے ہیں جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی کوششیں بند کرے۔

















































