کوئٹہ: محمد صدیق لانگو کی اہلیہ کی پریس کانفرنس، شوہر کی بازیابی کا مطالبہ

28

جبری لاپتہ محمد صدیق لانگو کی اہلیہ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے شوہر کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ محمد صدیق لانگو کو 7 اپریل کی رات تقریباً 12 بجے کلی اسماعیل، کوئٹہ میں ان کے گھر سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ ان کے مطابق واقعے کو کئی روز گزر چکے ہیں تاہم اب تک ان کے شوہر کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ خاندان مکمل طور پر بے یقینی اور ذہنی اذیت کا شکار ہے اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ محمد صدیق لانگو کہاں اور کس حال میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر گزرتا دن اہلِ خانہ کے لیے شدید کرب اور پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

اہلیہ محمد صدیق لانگو نے کہا کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے جن میں آزادی اور منصفانہ قانونی کارروائی شامل ہے، جبکہ کسی بھی شخص کو بغیر قانونی طریقہ کار کے لاپتہ کرنا آئینی و انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے اعلیٰ حکام، عدلیہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ اگر ان کے شوہر پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ وہ اپنا دفاع کرسکیں، اور اگر وہ بے قصور ہیں تو انہیں فوری طور پر باحفاظت رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گھر کا سکون ختم ہو چکا ہے اور بچے روز اپنے والد کے بارے میں سوال کرتے ہیں جن کا جواب ان کے پاس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان شدید خوف اور بے بسی کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔

آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی فریاد سنی جائے اور محمد صدیق لانگو کو فوری طور پر منظر عام پر لا کر انصاف فراہم کیا جائے۔