ماہِ مارچ کی آپریشنل رپورٹ: 39 کارروائیوں میں دشمن کے 30 فوجی اہلکار ہلاک۔ میجر گہرام بلوچ

1

 
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مارچ 2026 میں قابض پاکستانی فوج اور اس کے ذیلی اداروں، دفاعی تنصیبات اور استحصالی معاشی منصوبوں پر حملوں میں غیر معمولی تیزی لاتے ہوئے مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں 39 مسلح کاروائیاں سرانجام دیں۔ ان کارروائیوں کے دوران دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ ان منظم کارروائیوں کا دائرہ پنجگور، پسنی، کوہلو، تربت، ہوشاب، خضدار، بیسیمہ، حب، جھاؤ، ہیرونک، تمپ، نال، گوادر، تجابان، چاغی، واشک، مند، مستونگ، بارکھان، قلات، شاہرک، مالار اور گیشکور سمیت 23 سے زائد علاقوں تک پھیلا ہوا تھا جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر دشمن فوج کے 30 اہلکار ہلاک اور 7 شدید زخمی ہوئے۔
 
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مارچ کی سب سے اہم اور بڑی کارروائی تمپ کے علاقے اپسی کہن میں سرانجام دی جہاں سرمچاروں نے تزویراتی حکمت عملی کے تحت دشمن کی چوکیوں پر مربوط حملے کیے اور دشمن کے سرویلنس ڈرون کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ اس اسپیشل آپریشن کے دوران قابض فوج کے 15 اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ آپریشن اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ سرمچاروں کی کامیاب عسکری حکمت عملی کے باعث دشمن کی گرفت حساس علاقوں میں مفلوج ہو چکی ہے۔
 
ترجمان نے کہا کہ انٹیلیجنس کے محاذ پر 3 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران دشمن کے 12 کلیدی ایجنٹس اور آلہ کاروں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ نیٹ ورک بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیوں اور سرمچاروں کی مخبری میں براہِ راست ملوث تھے۔ اسی طرح سرمچاروں نے دشمن کی بصری قوت کو نشانہ بناتے ہوئے 3 ڈرونز اور 2 سرویلنس کیمرے تباہ کیے، جبکہ ایک اہم کارروائی میں دشمن کے انٹیلیجنس آفس کو بھی نشانہ بناکر بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
 
انہوں نے کہا کہ عسکری پیش قدمی کے تسلسل میں دشمن کی 15 فوجی چیک پوسٹوں اور 5 بڑے فوجی کیمپوں پر مربوط حملے کیے گئے۔ تزویراتی محاذ پر دشمن کی رسد کو متاثر کرنے کے لیے 5 مقامات پر ٹارگٹڈ ناکہ بندیاں کی گئیں، جبکہ مقبوضہ بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ایک معدنیاتی کمپنی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے دوران دشمن کی 6 فوجی گاڑیاں تباہ کی گئیں اور معدنیات لے جانے والی 2 گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
 
ترجمان نے کہا کہ تکنیکی اعتبار سے اس ماہ کی کارروائیوں میں جدید اور بھاری ہتھیاروں کا موثر استعمال کیا گیا۔ مجموعی طور پر 11 حملے بھاری ہتھیاروں سے کیے گئے، جبکہ 5 گرنیڈ لانچر حملے، 2 دستی بم حملے، اور 2 آئی ای ڈی (IED) دھماکے کیے گئے۔ ماہر نشانہ بازوں نے 2 اسنائپر حملوں میں دشمن کو نشانہ بنایا، جبکہ دشمن سے  2 براہِ راست جھڑپیں ہوئیں اور 1 فوجی قافلے کو بھی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ ان معرکوں کے دوران سرمچاروں نے دشمن سے  اسلحہ قبضے میں لے کر ضبط کیے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع کی اس عظیم جنگ میں بی ایل ایف کے 9 جانباز سرمچاروں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان شہداء نے دشمن پر ثابت کیا ہے  کہ فوجی طاقت سے بلوچ قوم کا جذبہ آزادی کمزور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بی ایل ایف ان قومی شہداء کو ان کی عظیم قربانی پر خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کے مشن کو منزل تک پہنچانے کے عہد کی تجدید کرتی ہے۔