عشقِ وطن میں قربانی کا جذبہ: فرزندِ منگچر چئیرمین حزب اللّٰہ بلوچ – شکّلی بلوچ

71

عشقِ وطن میں قربانی کا جذبہ: فرزندِ منگچر چئیرمین حزب اللّٰہ بلوچ

تحریر: شکّلی بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

حزب اللّٰہ صرف ایک شخص یا ایک نام نہیں تھا، بلکہ ایک سوال تھا۔ ایک ایسا سوال جس نے منگچر کی زرخیز زمین میں جنم لیا، اور کتابوں کے مطالعے کے دوران وطن کے درد سے جا ملا۔ ایک خوبصورت نوجوان، جس کی زندگی کے سنہرے دن تھے جب اکثر لوگ خوشگوار خواب دیکھتے اور عیش و آرام کا تصور کرتے ہیں لیکن اُس نے مادرِ وطن کی پکار پر لبّیک کہا اور اپنی جان قربان کر دی۔ آج وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے زندہ اور امر ہے۔

شہید چئیرمین حزب اللّٰہ ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جہاں ہر آسائش موجود تھی مگر انہوں نے کبھی ذاتی راحت کو اپنی منزل نہیں بنایا۔ علم، ادب اور سیاسی شعور ان کی پہچان تھے۔ قلم ان کا ہتھیار تھا اور کتابیں ان کی رہنمائی کرتی تھیں لیکن ان کی منزل صرف ایک تھی: آزادی۔ وہ ایک ایسے نظام سے آزادی چاہتے تھے جہاں بلوچ ہونا جرم ہو، سچ بولنا جرم ہو، حق کی بات کرنا گناہ کے مترادف ہو اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ٹارگٹ کلنگ یا عقوبت خانوں کے ذریعے موت دی جاتی ہو یا پورے خاندان کو اجتماعی سزا ملتی ہو۔

جب سچ بولنا جرم ہو تو خاموش رہنا بھی گناہ بن جاتا ہے۔ ایک نوآبادیاتی معاشرے میں جینا، جہاں روزانہ عزت اور چاردیواری کے تقدس کو پامال ہوتے دیکھنا، اپنی لاچار ماؤں اور بہنوں کو سڑکوں پر گھسیٹتے دیکھنا، کسی بھائی یا بہن کی جبری گمشدگی سننا، پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں دیکھنا، یا برسوں تک اذیت ناک انتظار میں مبتلا ہونا، ایسے حالات میں ایک باضمیر انسان کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ اور شہید حزب اللّٰہ نے بھی خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ انہوں نے انصاف کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو ترجیح دی۔

مقبوضہ معاشروں میں جو حق اور انصاف کی بات کرتا ہے اسے کچل دیا جاتا ہے۔ حزب اللّٰہ جانتے تھے کہ انصاف صرف قلم یا چیخ و پکار سے نہیں ملتا۔ اگر قابض سے حق لینا ہو تو جنگ کرنی پڑتی ہے، قربانی دینی پڑتی ہے، اپنی جان کا نظرانہ پیش کرنا ہوتا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ صرف حق و باطل کی جنگ نہیں، بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں محبت بھی ملتی ہے اور غم بھی۔ اس جنگ میں رشتے تو ختم ہوتے ہیں، لیکن قوم متحد ہوتی ہے اور ایک فرد کو قوم سے جوڑتی ہے۔

اس جہد کا کوئی وقت مقرر نہیں، یہ جاری رہتی ہے جب تک منزل حاصل نہ ہو۔ جو اس جہد سے منسلک ہوتا ہے، وہ اپنے گھر بار، مال، دوست، شوق اور خواہشات سب کچھ چھوڑ دیتا ہے لیکن تاریخ میں اس کی قربانی ہمیشہ لکھی جاتی ہے۔ اس سفر میں صرف وہی منزل تک پہنچ پاتے ہیں جن کے دل میں وطن کا درد ہو، جنہیں زمین سے عشق ہو اور جن کے لیے سب کچھ وطن کے بعد ہو۔ اسی لیے چیئرمین جان نے اپنی جوانی کے سنہرے دن، خواہشات، خاندان اور سب کچھ اپنے بڑے بھائی شہید فدائی آصف جان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وطن کی پکار پر قربان کر دیے۔ وہ جانتے تھے کہ لُمہ آصف جان کو کتنا یاد کرتی ہے لیکن جب مادرِ وطن کو ضرورت پڑی تو پیچھے نہیں ہٹے۔

شاید یہ وطن کا درد تھا یا وطن سے عشق کی انتہا کہ دونوں بھائی ہنستے مسکراتے وطن پر قربان ہو گئے۔ ان کی مسکراہٹیں، ان کا حوصلہ اور ان کی قربانیاں آج بھی ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ حقیقی عشق وطن سے ہوتا ہے۔ یہ قربانیاں صرف جذبے اور احساس کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مضبوط نظریے کی زندہ مثال ہیں۔ یہ قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ شہید آصف اور شہید حزب اللّٰہ مرے نہیں بلکہ امر ہو گئے ہیں۔ وہ آج بھی ہر وطن پرست کے دل میں زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

یہ قربانیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ وطن کی محبت صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل، قربانی اور جذبے میں ثابت ہوتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہر فرد جو اپنے وطن کے لیے کھڑا ہوتا ہے، وہ نہ صرف اپنے وقت کا ہیرو ہوتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کا بھی رہنما بن جاتا ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو ہر اندھیرے میں ہمیں راستہ دکھاتی ہے۔ یہی روشنی ہے جو ہر محبِ وطن کے دل میں کبھی مدھم نہیں ہو سکتی۔

زمین جس پر ہم چلتے ہیں، وہ صرف مٹی نہیں بلکہ ہماری محبت، قربانی اور جذبے کی گواہ ہے اور جب محبت، قربانی اور جذبہ اکٹھا ہو جائیں تو تاریخ انہیں کبھی نہیں بھولتی۔ یہ وہ جذبہ ہے، وہ داستان ہے جو نسل در نسل زندہ رہے گی۔

ان قربانیوں کی گونج صرف ماضی میں نہیں رکی۔ یہ آج بھی ہر گلی، ہر پہاڑ، مٹی کے ہر ذرے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ہر وہ دل جو وطن سے محبت کرتا ہے، اس گونج کو سنتا ہے اور اپنے قدم اس راستے پر رکھتا ہے جو آزادی اور حق کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ شہید حزب اللّٰہ کی قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچائی، حبِّ الوطنی اور بہادری کا سفر کبھی آسان نہیں، مگر یہ ہر شخص کو عظمت کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔

یہ قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ وطن کے لیے جینا اور مرنا صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک عظیم جذبے کی پہچان ہے۔ اور جب یہ جذبہ دل میں زندہ رہے، تو ہر دن، ہر لمحہ، ہر نسل اس روشنی سے منور ہو جاتی ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو کبھی مدھم نہیں ہوتی، اور منزل تک پہنچا دیتی ہے۔

ان قربانیوں کی روشنی صرف تاریخ کے صفحات میں نہیں رکتی، بلکہ ہر سانس، ہر دل کی دھڑکن میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ جب ہم پہاڑوں کی خاموشی میں، درختوں کی سرسراہٹ میں یا صحرا کی وسعت میں قدم رکھتے ہیں تو یہ آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خون کا ہر قطرہ، ہر قربانی وطن کی عظمت کے لیے نچھاور ہوئی۔ یہ یاد ہمیں سبق دیتی ہے کہ آزادی صرف دعوے یا خواہش نہیں، بلکہ محنت، جدوجہد اور استقامت کا نتیجہ ہے۔

شہیدوں کی قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ حبِّ الوطنی ایک لمحاتی جذبہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو ہر دل میں جلتا ہے، جو مشکلات، خوف اور اندھیروں کے باوجود کبھی بجھتا نہیں۔ اور یہی چراغ نسلوں کو ہمت، عزم اور ایمان دیتا ہے کہ وطن کی محبت کو ہر صورت زندہ رکھا جائے۔

جب ہم آج اُن کی مسکراہٹوں اور قربانیوں کو یاد کرتے ہیں، تو ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ حقیقی آزادی صرف دشمن کو نیست و نابود کرنے سے نہیں، بلکہ اپنے اندر کی غلامی کو ختم کرنے میں ہے۔ جس شخص کے دل میں وطن کا عشق ہو، وہ ہر وقت حق کے لیے قربان ہونے کو تیار رہتا ہے، اور یہی عشق ہمیں حقیقی معنوں میں آزاد کرتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔