تربت: چاکر بلوچ کو دکان میں فائرنگ کرکے ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ بی وائی سی

57

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے کہا ہے کہ چاکر بلوچ ولد برکت، 18 سالہ طالب علم، کو ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے ماورائے عدالت قتل کر دیا۔ انہیں ان کی اپنی دکان، واقعہ میناز، بلیدہ میں نشانہ بنایا گیا جہاں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے انہیں موقع پر ہی قتل کر دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ چاکر بلوچ نے ابھی اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اور روزگار کمانا شروع ہی کیا تھا۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے بلوچ عوام کو خاموش کرانے، خوف پھیلانے اور اجتماعی سزا کے ذریعے ہر فرد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستانی ریاست ایک ایسا منظم نظام نافذ کر رہی ہے جس میں کسی کو بھی آزادانہ سانس لینے کی اجازت نہیں۔

مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں، بالخصوص انٹرنیشنل کوونینٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس (ICCPR) کے آرٹیکل 6 (حقِ زندگی)، جو ہر حالت میں زندگی سے محروم کرنے کے من مانے عمل کو سختی سے منع کرتا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق چاکر بلوچ کا قتل بھی ان بے شمار واقعات میں ایک اور اضافہ ہے جہاں نہ کوئی انصاف فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی جوابدہی ہوتی ہے۔ بلوچستان میں جاری تشدد کا یہ تسلسل نہایت تشویشناک ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ اس پرتشدد صورتحال میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔

بیان کے مطابق ٹارگٹ کلنگ، دھمکیوں اور بلا روک ٹوک طاقت کے استعمال نے پورے بلوچستان میں عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے۔

یہ واقعہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے بحران اور احتساب کے فقدان کو واضح کرتا ہے۔ متاثرہ خاندان اذیت کا شکار ہیں جبکہ ذمہ دار عناصر مکمل استثنیٰ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

آخر میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر شفاف اور خودمختار تحقیقات کو یقینی بنائیں تاکہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور بلوچستان میں مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔