افغانستان ک صوبے ہرات میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے شہریوں پر فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پشتو کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 12 افراد جانبحق جبکہ 15 زخمی ہوئے ہیں، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ تاہم افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تعداد 7 بتائی ہے۔
ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ 12 لاشیں ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔
صوبہ ہرات میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ، احمد اللہ متقی نے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع انجیل کے علاقے دہ مہری میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے تفریح کی غرض سے آئے ہوئے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ان کے مطابق زخمی ہونے والے 15 افراد کو فوری طور پر ہرات کے علاقائی ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔
احمد اللہ متقی نے اس واقعے کو “دہشت گردی کا واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ علاقہ زیادہ تر شیعہ آبادی پر مشتمل ہے، تاہم حملے کی وجوہات اور اس کے پس پردہ عناصر کے بارے میں تاحال کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔













































