‎بلوچستان بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کیا جائے ۔ بی ایس او‎

1

‎بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان تعلیمی اشاریے میں سب سے پسماندہ ترین صوبہ ہے، رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں 44 فیصد شرح خواندگی ہے اور قریباً تیس (30) لاکھ بچے تعلیمی عمل سے محروم ہیں ۔ بی ایس او سمجھتی ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کی شرح میں اضافہ افسوسناک ہے، خطے میں تعلیمی عمل میں عدم توجہی حکمرانوں کی تعلیم دشمن پالیسیوں کا تسلسل ہے جسے منظم کوششوں سے تباہی کے دہانے پر پہنچایا گیا ہے، اسی تسلسل میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان کے 333 میڈیکل نشستوں سے محض 121 نشستوں پر حتمی تقرری طلبہ دشمن پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

‎ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ تعلیمی رپورٹس بلوچستان کی سنگین تعلیمی صورتحال کو بے نقاب کرتی ہیں، ایسے حالات میں جب صوبہ پہلے ہی ناقص اور کمزور تعلیمی ڈھانچے اور صحت کے شعبے میں ڈاکٹرز کی شدید کمی کی وجہ سے درجنوں لوگ روزانہ کی بنیاد پر جان کی بازی ہار جاتے ہیں، وہیں محدود تعلیمی بجٹ اور میڈیکل نشستوں میں کمی دراصل اس نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کا تسلسل ہے جس کے تحت محکوم اقوام کو علمی، شعوری، سماجی و معاشی پسماندگی میں رکھا جاتا ہے۔

‎ترجمان نے مزید کہا کہ بی ایس او مطالبہ کرتی ہے بلوچستان کی تشویشناک تعلیمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لائی جائے اور قابلِ عمل اقدامات کیئے جائیں، جس میں 3000 گھوسٹ سکولوں کی بحالی، معیاری انفراسٹرکچر کی ازسرِ نو تعمیر، نئے گرلز اسکولوں کی تعمیر اور یکساں ڈیجیٹل لرننگ کے مواقعوں کی فراہمی شامل ہیں، نیز بلوچستان کے طلبہ کے لیے مختص تمام 333 میڈیکل نشستوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور شفاف تقرری کو یقینی بنایا جائے۔