کیمپیوناٹو مینیرو فائنل میں ہنگامہ آرائی، 23 کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈ

1

برازیل کے فٹبال ٹورنامنٹ کیمپیوناٹو مینیرو کے فائنل میں کروزیرو اور ایٹلیٹیکو مینیرو کے درمیان کھیلا گیا میچ شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا، جہاں بڑے پیمانے پر جھگڑے کے بعد مجموعی طور پر 23 کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈ دکھا دیا گیا۔

میچ میں کروزیرو کو اس وقت برتری حاصل ہوئی جب کائیو جارج نے ایک اہم گول کرکے اپنی ٹیم کو 1-0 کی برتری دلائی۔ تاہم مقابلے کے آخری لمحات میں صورتحال اس وقت خراب ہوگئی جب کروزیرو کے مڈفیلڈر کرسچن اور ایٹلیٹیکو مینیرو کے گول کیپر ایورسن کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق ایورسن نے غصے میں آکر کرسچن کو زمین پر گرا دیا، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور اسٹاف میدان میں آ گئے اور معاملہ دیکھتے ہی دیکھتے بڑے جھگڑے میں تبدیل ہوگیا۔ اس دوران کھلاڑیوں کے درمیان دھکم پیل، لاتوں اور مکوں کا تبادلہ بھی ہوا جبکہ میچ آفیشلز اور سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔

واقعے کے بعد ریفری نے سخت کارروائی کرتے ہوئے کروزیرو کے 12 اور ایٹلیٹیکو مینیرو کے 11 کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈ دکھایا۔ ابتدائی جھگڑے میں ملوث کرسچن اور ایورسن کو بھی میدان بدر کردیا گیا جبکہ دیگر کھلاڑیوں کو لڑائی میں حصہ لینے پر سزا دی گئی۔

ایٹلیٹیکو مینیرو کے اسٹار اور سابق برازیلین انٹرنیشنل ہلک بھی ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں ریڈ کارڈ دکھایا گیا۔

میچ آفیشل کی رپورٹ کے مطابق اس مقابلے میں 23 کھلاڑیوں کو میدان سے باہر بھیجا گیا جو برازیلین فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل 1954 میں پرتگیزا اور بوٹافوگو کے درمیان کھیلے گئے میچ میں 22 کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈ دیا گیا تھا۔

برازیلین فٹبال فیڈریشن نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق اس واقعے سے لیگ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور امکان ہے کہ ملوث کھلاڑیوں پر قومی ٹورنامنٹس میں سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔