کتابیں، کافی اور منافقت – ایڈوکیٹ عمران بلوچ

25

کتابیں، کافی اور منافقت

تحریر: ایڈوکیٹ عمران بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کمیونسٹ بننے کا شوق

بہت مشہور کہانی ہے کہ ایک پاکستانی کو کمیونسٹ بننے کا شوق چڑھا۔ لہٰذا اس نے فوراً ماسکو کا رخ کیا تاکہ وہاں جا کر کامریڈوں سے ملے اور وہ اسے کمیونسٹ بنا دیں۔ چنانچہ کرتے کراتے وہ نہ صرف ماسکو پہنچا بلکہ کسی ایسے ٹھکانے کا بھی پتا لگا لیا جہاں کمیونسٹوں کا ڈیرہ لگتا تھا۔ صاحب وہاں پہنچے اور کامریڈوں سے اسے کمیونسٹ بنانے کی استدعا کی۔ کسی نے اسے چند کتابیں پکڑا دیں اور کہا کہ پہلے انہیں پڑھ کر ختم کرو، پھر آنا۔

خیر، موصوف کتابیں لے کر چلے گئے۔ تقریباً ایک مہینے بعد دوبارہ اسی جگہ آئے اور مسکراتے ہوئے بولے کہ انہوں نے تمام کتابیں پڑھ لی ہیں، لہٰذا اب کمیونسٹ بننے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ مگر کامریڈوں نے انہیں مزید چند کتابیں دے دیں اور کہا کہ پہلے ان کو بھی پڑھ کر ختم کریں۔ صاحب دکھی دل کے ساتھ کتابیں لے کر وہاں سے چلے گئے اور یوں ان کا کمیونسٹ بننے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔

اندازاً ایک ہفتے بعد وہ ایک مرتبہ پھر نہایت پرجوش انداز میں آئے اور بتایا کہ انہوں نے اس بار بھی تمام کتابیں پڑھ لی ہیں اور اب کمیونسٹ بننے کے لیے تیار ہیں۔ بس جو بھی چھوٹا موٹا امتحان ہے لے لیا جائے۔ خیر اسی طرح آنے جانے اور کتابیں لے جانے کا سلسلہ کچھ عرصہ جاری رہا۔ بالآخر ایک دن تنگ آ کر موصوف نے کہا کہ انہوں نے دی ہوئی تمام کتابیں حرف بہ حرف پڑھ لی ہیں اور انہیں ان کتابوں کا ایک ایک لفظ یاد ہے۔ بس کوئی اس بارے میں ان سے صحیح طریقے سے پوچھنے والا ہو تو خدا کی قسم وہ ایک ایک چیز کا درست جواب دیں گے۔ یہ سن کر کامریڈوں میں سے ایک نے کہا: “محترم، آپ کھبی بھی کمیونسٹ نہیں بن سکتے، لہٰذا اپنا اور ہمارا وقت مزید ضائع مت کریں۔”

کوئٹہ کی کافی شاپ میں ایک تجربہ

گزشتہ چند دنوں سے کوئٹہ ایئرپورٹ روڈ پر ایک کافی کی دکان کی تشہیر سوشل میڈیا پر زور و شور سے جاری تھی۔ اس میں دلچسپ بات وہاں مختلف خانوں میں رکھی ہوئی کتابیں تھیں۔ لہٰذا وہاں جانے کا میرا تجسس بہت بڑھ گیا۔ اسی لیے آج کچھ وقت نکال کر وہاں جانے کی سعادت حاصل کر لی۔

کم از کم کوئٹہ کے حساب سے جگہ کافی اچھی اور بڑی تھی۔ وہاں تقریباً تین سو سے پانچ سو تک کتابیں موجود تھیں جن کی اکثریت انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی۔ ان خانوں میں آپ بیتی، معیشت، سیاست، سفرنامے، عالمی جنگوں کی تاریخ، شاعری، افسانے اور ناول، غرض فکشن اور نان فکشن ہر موضوع پر کتابیں موجود تھیں۔ حتیٰ کہ فرانز فینن کی کتابیں بھی وہاں سجی ہوئی تھیں۔ یہ کتابیں نہ صرف وہاں بیٹھ کر پڑھنے کے لیے تھیں بلکہ اگر کوئی خریدنا چاہتا تو وہ بھی ممکن تھا۔

سماجی تضاد اور طنز

میرے سامنے والی میز پر ایک میاں بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنے لیے کھانے کا آرڈر دیا اور آپس میں سندھی زبان میں باتیں کرنے لگے۔ چونکہ وہ بالکل سامنے بیٹھے تھے اس لیے میں ان کی باتیں واضح طور پر سن سکتا تھا۔
مرد نے کتابوں کی طرف دیکھ کر کہا:
“کوئٹہ دیکھو اور انگریزی کتابیں دیکھو۔ پورا شہر جاہلوں کا ہے، یہاں کون انگریزی کتاب پڑھے گا؟”
یہ کہتے ہی دونوں میاں بیوی ہنسنے لگے۔
ان کی بات سن کر مجھے بہت غصہ آیا کہ بلوچستان کے حوالے سے باہر کے لوگوں کا وہی پرانا رویہ ہے کہ یہاں کے لوگ جاہل اور ان پڑھ ہیں اور انہیں انگریزی نہیں آتی۔
اسی دوران اس شخص کو موبائل پر ایک کال آئی۔ جتنا مجھے سمجھ آیا وہ پیسوں کے لین دین اور کسی دفتر کی بات کر رہا تھا۔ دلچسپ صورتحال تب بنی جب اس نے سامنے والے کو کہا کہ وہ اس وقت کہیں دور سریاب روڈ پر بیٹھا ہے، لہٰذا کل صبح دفتر میں حساب کتاب ہوگا۔
مجھے اس کی دونوں باتوں پر غصہ آیا: ایک لمحہ پہلے پورے بلوچستان کو جاہل اور ان پڑھ کہا، اور دوسرے لمحے خود اتنا بڑا جھوٹ بول دیا۔

مجھے لگا شاید یہ کوئی سندھی ملازم ہے جس کا کوئٹہ میں تبادلہ ہوا ہے اور ہوسکتا ہیکہ وہ اپنی ٹرانسفر سے ناخوش ہے، اسی لیے کوئٹہ کے بارے میں ایسا بول رہا ہے۔ چونکہ وہ آپس میں سندھی بول رہے تھے، اس لیے میں نے دل ہی دل میں انہیں سندھ کا مہمان سمجھ لیا۔ ایک تو ان کے ساتھ فیملی تھی، دوسرا میں نے انہیں زبان کی بنیاد پر سندھ کا مہمان مان لیا، اس لیے اپنے جذبات پر قابو پایا، ورنہ میرا ارادہ تھا کہ ان سے اس بات پر کچھ بحث ضرور کروں۔

مذہب، کاروبار اور دوہرا معیار

اسی دوران ایک دلچسپ صورتحال اس وقت بنی جب کاؤنٹر سے پورے ہال میں ہلکی موسیقی چلنے لگی جو کچھ دیر بعد حمد اور نعت میں تبدیل ہو گئی۔ اب یہ کافی، انگریزی افسانے اور حمد و نعت کا عجیب امتزاج تھا۔

میں اسی کشمکش میں مختلف کیفیتوں سے گزر رہا تھا کہ اتنے میں میرا آرڈر آ گیا۔ میں نے ویٹر سے مودبانہ گزارش کی کہ “کافی شاپ دیکھو اور تلاوت دیکھو، برائے کرم کوئی گانا یا ہلکی موسیقی چلا دو۔”
اس نے جواب دیا: “بڑے آغا جان ناراض ہو جائیں گے۔”
میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ بڑے آغا صاحب کون ہیں اور وہ کیوں ناراض ہوں گے؟ تو ملازم نے بتایا کہ کاؤنٹر پر جو بیٹھے ہیں وہ سید ہیں اور بڑے آغا ان کے بڑے بھائی ہیں اور اس جگہ کے مالک ہیں۔ چونکہ ساتھ شادی ہال اور مسجد بھی ہے اور اس وقت بڑے آغا وہاں تراویح پڑھا رہے ہیں، اگر انہوں نے گانے کی آواز سن لی تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔
میں نے کہا کہ کاروبار اور مذہب کو الگ رکھیں اور اپنے گاہکوں کو بھی کچھ آزادی دیں، مگر وہ بہت سہما ہوا لگا، لہٰذا میں نے مزید خاموش رہنے میں عافیت جانی ورنہ ذہن میں مجنوں اور ملا کا قصہ تازہ ہوا کہ میں لیلیٰ کے عشق میں اتنا غرق ہوں کہ مجھے نہ کچھ دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی سنائی دے رہا ہے اور تو ملا خدا کی خدمت میں نماز پڑھ رہا ہے اور تیرے عشق کا یہ حال ہیکہ تجھے ہر گزرتا شہ دکائ دیتا ہے ، وہ تیرا عشق اور یہ میرا عشق۔

اسی دوران جب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی سامنے والا آدمی میری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے موقع کو غنیمت جان کر اسے سلام کیا۔ اس نے خوش دلی سے جواب دیا۔ میں نے اس سے ان کا تعارف پوچھا تو اس کے جواب نے مجھے حیران کر دیا۔ اس نے بتایا کہ وہ ہندو ہے اور کوئٹہ کا مقامی باشندہ ہے۔ تعلیم کے بارے میں پوچھنے پر اس نے کہا کہ وہ اور اس کی بیوی دونوں غیر تعلیم یافتہ ہیں۔
جب اسے اندازہ ہو گیا کہ میں ان کی باتیں سن چکا ہوں تو اس نے وضاحت کی کہ وہ اپنا کاروبار کرتا ہے اور پورے بلوچستان میں اس کا لین دین ہے اور وہ کروڑ پتی ہے۔

میں حیرت میں ڈوب گیا کہ جو شخص چند لمحے پہلے پورے بلوچستان، خصوصاً کوئٹہ کو جاہل اور ان پڑھ کہہ رہا تھا، وہ خود ان پڑھ نکلا۔ اگر سچ بولتا تو بھی بات قابلِ برداشت تھی، مگر اس کے بعد اس نے فون پر غلط بیانی بھی کی تھی اور اب پورے شہر اور وہاں رکھی کتابوں پر ہنس رہا تھا۔

اخلاقیات کا آئینہ

اسی دوران ایک عورت اور تین مرد کیمروں کے ساتھ سیڑھیوں سے اوپر آئے۔ انہوں نے آتے ہی کھانے کا آرڈر دیا اور پھر تصاویر اور ویڈیوز بنانا شروع کر دیں۔ ان میں سے ایک مرد اس عورت کے ساتھ بغل گیر ہو کر ویڈیوز بنوا رہا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے اور بوس و کنار تک بات پہنچ گئی۔

اسٹاف یہ سب دیکھ رہا تھا، مگر مجال ہے کہ کسی نے کہا ہو کہ یہ سب بند کریں، ورنہ بڑے آغا صاحب ناراض ہو جائیں گے۔

امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ نے آغا صاحب اور تاجر صاحب کی طرح ہمارے معاشرے کے ملا اور پارلیمنٹ پرست سب کو بے نقاب کردیا ہے۔ خیر اس پر پھر کھبی الگ سے اور مفصل لکھے گے، فلحال تو اتنا ہی لکھنا بس ہیکہ ہر جمعہ کو گلا پھاڑ پھاڑ کر یہود و نصارہ کی ورد کرنے والے اب کچھ بولنے سے قاصر ہیں ، بالکل اسی طرح افغانستان جن کا نہ صرف دوسرا گھر تھا بلکہ وہ خود کو طالبان کا وزیر خارجہ کہتے نہیں تھکتے تھے پر لگتا ہے اب انھوں نے بھی اپنا گھر اور منصب کسی اور کے ہاتھوں بیچ دیا ہے، بالکل اسی طرح خود کو بلوچ قوم پرستی کے علمدار اور یوسف عزیز کرد کے جانشین گرداننے والے یہ کیوں بھول جاتے ہے کہ انھوں نے ہی عظیم تر بلوچستان کا نقشہ مرتب کیا تھا بلکہ اس وقت سے لیکر آج تک عظیم تر بلوچستان یعنی ڈیرہ غازی خان تا مکران کا جو دعویٰ کیا جاتا ہے وہ مکران تو اس بلوچستان میں نہیں بلکہ اصل مکران ایران میں ہے جو مقبوضہ ہے، جہاں ایک فاشسٹ، مذہبی بنیاد پرست بلکہ فرقہ پرست گروہ نے وہاں کے بلوچوں کو نہ صرف اقلیت میں تبدیل کر کے انھیں نان شبینہ کا محتاج بنایا ہے، ان کی زبان، ثقافت خطرے میں ہیں بلکہ ہر جمعہ کی نماز کے بعد ملا موصوف کے حکم پر درجنوں بلوچ مرد و زن کو کرین سے لٹکا کر ان کے لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی تھی، مگر آج اس سب کو بھلا کر جس طرح پارلمانی پارٹیوں کے لوگ باجماعت تعزیت کرنے جارہے ہیں وہ سب دیدنی ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ نے بھی ہمارے معاشرے کے ملا اور پارلیمنٹ پرست طبقے کو اسی طرح بے نقاب کر دیا ہے جیسے آغا صاحب اور تاجر صاحب کے کردار نے اس قہوہ خانے میں منافقت کو آشکار کیا۔

انقلاب اور انقلاب کی تیاری کا اندازہ سخت نعروں یا دعوؤں سے نہیں بلکہ مشکل حالات میں عملی کردار سے ہوتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے جس طرح بعض لوگ مغربی بلوچستان کی سیاسی جدوجہد اور حقوق کی بات کرتے نہیں تھکتے تھے، آج جب حالات عملی مظاہرے کا تقاضا کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ سب محض نعرے تھے۔

میں سمجھتا ہوں کہ مذہبی ہو، پارلیمانی ہو یا سرمایہ دار — یہ سب زیادہ تر کاروباری ہی ہیں۔ ان کا کوئی مستقل سیاسی نظریہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر یہ نظریۂ ضرورت کے تحت موقف اختیار کرتے ہیں۔

اسی لیے کہتے ہیں کہ فضول بیٹھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں، اور ہوٹلوں میں بیٹھ کر سیاسی گفتگو کرنا سخت منع ہے۔

اس قہوہ خانے کی چند گھنٹوں کی نشست نے مجھے ہمارے پورے معاشرے کی ایک جھلک دکھا دی۔ یہاں کتابیں بھی تھیں، مذہب بھی تھا، کاروبار بھی اور اخلاقیات کے دعوے بھی۔ مگر جب حقیقت سامنے آئی تو ہر چیز اپنے اصل چہرے کے ساتھ ظاہر ہو گئی۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ معاشروں کو سمجھنے کے لیے بڑی کانفرنسوں اور سیاسی جلسوں کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی کبھی ایک قہوہ خانہ ہی پورے سماج کا آئینہ بن جاتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔