ڈاکٹر صبیحہ بلوچ پر ریاستی الزامات: ریاست پرامن آوازوں کو دبانے کی کوشش کررہا ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ

28

بلوچ نیشنل مومنٹ کے کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی جانب سے بلوچ خاتون کارکن اور بلوچ یکجہتی کمیٹی رہنماء ڈاکٹر صبیحہ بلوچ پر لگائے گئے الزامات کی شدید مذمت کی ہے۔

اپنے بیان میں ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ آج ایک پریس کانفرنس میں پہلے سے جبری لاپتہ بلوچ خاتون کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے ہمراہ پیش کیا، جس میں وہ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کو خودکش بمباروں کی ہینڈلر قرار دے رہی ہیں۔

انہوں نے اس عمل کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ بلوچ کارکنوں کو خاموش کرانے کی ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون فرزانہ زہری کو یکم دسمبر 2025 کو پاکستانی فورسز کی جانب سے اغوا کیا گیا تھا اور کئی ماہ تک انہیں لاپتہ رکھا گیا، ڈاکٹر نسیم بلوچ کے مطابق کسی لاپتہ فرد کو طویل حراست اور مبینہ تشدد کے بعد بیان دینے پر مجبور کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور جبر کی واضح مثال ہے۔

بی این ایم کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ طویل عرصے سے اپنی پرامن انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی وجہ سے نشانے پر رہی ہیں، ماضی میں ان کے والد کو بھی جبری طور پر اغوا کیا گیا تھا تاکہ انہیں انسانی حقوق کی جدوجہد چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کو نہ صرف افراد کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ متاثرین کو دوسرے کارکنوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے، جس کا مقصد خوف پھیلانا، بداعتمادی پیدا کرنا اور انصاف کے لیے آواز اٹھانے والی پرامن تحریکوں کو کمزور کرنا ہے۔

ڈاکٹر ندیم بلوچ نے ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے خلاف لگائے گئے الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ ہیومین رائٹس کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔