بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے کولواہ، مستونگ، سوراب، تربت، سامی، نوانو اور دشت میں چودہ مختلف کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج، اس کی ذیلی فورسز اور ڈیتھ اسکواڈز کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں قابض فوج کے چودہ اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ مختلف پولیس تھانوں پر کنٹرول حاصل کرکے اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔ اس دوران سرمچاروں نے مرکزی شاہراہوں پر ناکہ بندیاں قائم کرکے گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ بھی جاری رکھی۔
ترجمان نے کہاکہ 16 فروری: کولواہ کے علاقے بلور میں قابض پاکستانی فوج کے پیدل دستوں اور گاڑیوں کے قافلے کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کررہے تھے۔ حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہاکہ 24 فروری: مستونگ کے علاقے گرگینہ میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے رات کے وقت پیش قدمی کرنے والی قابض فوج پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے باعث دشمن پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا۔ اگلے روز قابض فوج نے دوبارہ پیش قدمی کی کوشش کی جسے ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا۔ ان دونوں جھڑپوں میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک اور کم از کم سات زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ 26 فروری: سوراب میں کوئٹہ–کراچی مرکزی شاہراہ پر گھنٹوں ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ جاری رہی۔ اس دوران قابض فوج اور نام نہاد سی ٹی ڈی نے مداخلت کی کوشش کی، جس پر سرمچاروں نے سی ٹی ڈی کی بکتر بند گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی (IED) حملے کا نشانہ بنایا۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی ناکارہ ہوگئی اور ایک اہلکار ہلاک ہوا۔
اسی روز کیچ کے علاقے تربت میں کلاتک کے مقام پر پولیس تھانے کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا گیا۔ سرمچاروں نے وہاں موجود اسلحہ و دیگر فوجی سامان اپنی تحویل میں لینے کے بعد تھانے کے سرویلنس ٹاور کو دھماکے سے تباہ کردیا۔ اس کارروائی کے دوران شاہراہ پر دو گھنٹوں تک ناکہ بندی جاری رہی۔ قابض فوج نے بکتر بند گاڑیوں میں پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے شدید حملے میں پسپا کر دیا۔
مزید کہاکہ یکم مارچ: مستونگ کے علاقے کردگاپ میں پیش قدمی کی کوشش کرنے والی قابض فوج کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
اسی روز بلیدہ کے علاقے نوانو میں قابض فوج کے قافلے میں شامل گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں دشمن کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان نے کہاکہ 3 مارچ: تربت سے متصل نودز کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر دو گھنٹوں سے زائد ناکہ بندی کی گئی۔ اس دوران قابض فوج نے ڈیتھ اسکواڈ کے ہمراہ قافلے کی صورت میں مداخلت کی کوشش کی، جسے سرمچاروں نے براہِ راست حملے کی زد میں لیا۔ حملے میں دو موٹر سائیکلوں سمیت دشمن کی بکتر بند گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور تین اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔
اسی رات تربت کے علاقے ناصر آباد میں جدید ہتھیاروں اور تھرمل اسکوپس سے لیس ‘اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ’ (STOS) کے سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ حملے میں بکتر بند سمیت تین گاڑیاں براہِ راست نشانہ بنیں، جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ اسی روز کیچ کے علاقے سامی (کلگ) میں قابض فوج کی پوسٹ پر متعدد راکٹ داغے گئے جو کامیابی سے اپنے اہداف پر لگے، جس سے دشمن کو جانی ومالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
4 مارچ: سامی کے علاقے ہفتاری میں سی پیک روٹ پر قابض فوج کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ اسی روز دشت (کڈان) میں بھی ایک فوجی پوسٹ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا گیا۔
مزید کہاکہ علاوہ ازیں، تربت شہر میں تعلیمی چوک پر قائم فوجی پوسٹ اور پسنی شہر میں کسٹم آفس کو دستی بم حملوں میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا گیا۔
آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی واضح کرتی ہے کہ قابض پاکستانی فوج اور اس کے تمام عسکری و معاشی مفادات تنظیم کے براہِ راست نشانے پر ہیں۔ ہماری یہ کارروائیاں اس دفاعی حکمتِ عملی کا تسلسل ہیں، جس کا مقصد سرزمینِ بلوچستان سے پاکستان کے غیر فطری قبضے کا مکمل خاتمہ ہے۔ دشمن کی عسکری تنصیبات، اس کے مقامی سہولت کاروں اور استحصالی منصوبوں پر حملوں کی شدت میں وقت کے ساتھ مزید اضافہ کیا جائے گا۔ بی ایل اے اپنی قومی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہے اور بلوچستان کی مکمل آزادی کے حصول تک مسلح مزاحمت کا یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔



















































