افغان حکام نے کہا ہے کہ پاکستان نے کابل اور متعدد سرحدی صوبوں میں نئے حملے کیے، جن کے نتیجے میں دارالحکومت میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کابل پولیس کے ترجمان خلیل زدران نے کہا کہ بمباری میں مکانات کو نشانہ بنائے جانے سےچار افراد ہلاک اور 15 افراد زخمی ہوئے۔
پاکستان نے پچھلے ماہ افغانستان کے خلاف ہوائی حملوں کی لہر شروع کی تھی اور دعویٰ کیاکہ یہ کارروائی اندرونِ پاکستان میں حملوں میں اضافے کے بعد شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہے۔
کابل میں طالبان حکومت نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر کہا کہ پاکستانی حملوں نے جنوبی صوبہ قندھار کو بھی نشانہ بنایا۔
حالیہ ہفتوں میں افغان اور پاکستانی فورسز سرحدی علاقوں میں بھی جھڑپوں میں ملوث رہی ہیں، جس سے تجارت متاثر ہوئی اور سرحد کے قریب رہنے والے لوگ اپنا گھر بارچھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کے افغانستان مشن نے کہا ہے کہ 26 فروری تا 5 مارچ پاکستانی فوجی کارروائیوں میں 56 عام شہری ہلاک ہوئے، جن میں 24 بچے شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین ادارے نے کہا ہے کہ تصادم کے باعث تقریباً 115,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

















































