پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر عارضی طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ اسلامی تہوار کے احترام اور بعض دوست اسلامی ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اسلامی امارتِ افغانستان کی سکیورٹی اور دفاعی افواج نے عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر “دفاعی آپریشن ردّالظلم” کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ برادر اسلامی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، ترکی اور قطر کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
اسلامی امارت کے مطابق افغانستان ان ممالک کی نیک نیتی اور ثالثی کی کوششوں کو سراہتی ہے افغانستان کی قومی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کی حفاظت کا دفاع کرنا انکی قومی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔
ترجمان کے مطابق اس عارضی جنگ بندی کے دوران اگر افغانستان کو کسی قسم کے خطرے کا سامنا ہوا تو اسلامی امارت اس کا بھرپور جواب دے گی۔
دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات نے بھی ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے افغانستان میں مبینہ طور پر موجود پاکستانی طالبان کے خلاف جاری “آپریشن غضب للحق” کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق عیدالفطر کے پیش نظر اور سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر پاکستان نے نیک نیتی کے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے، یہ عارضی وقفہ 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب سے لے کر 23 اور 24 مارچ کی درمیانی شب تک نافذ العمل رہے گا۔
پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر اس دوران سرحد پار حملہ، ڈرون حملہ یا پاکستان کے اندر کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تو آپریشن غضب للحق فوری طور پر دوبارہ پوری شدت کے ساتھ شروع کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان گذشتہ کئی ہفتوں سے سرحدی جھڑپوں اور فضائی اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں گزشتہ روز پاکستانی فضائی فورسز نے قابل میں نشہ کے عادی افراد کے بحالی سینٹر پر حملہ کیا تھا۔
افغان حکومت کے مطابق اس حملے میں چار سو سے زائد شہریوں کی جانب چلی گئی ہے، جبکہ حملوں کے جواب میں افغان فورسز نے بھی اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈرون حملے کئے ہیں۔

















































