پاکستانی حملوں میں 4 شہری جان سے گئے۔افغان حکومت

1

طالبان کی حکومت نے جمعرات کو کہا ہے کہ مشرقی افغانستان میں پاکستانی توپ خانے اور مارٹر فائر سے دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد جان سے چلے گئے ہیں۔

افغان حکومت کے ترجمان حمداللہ فطرت نے کہا کہ افغانستان میں تازہ ترین اموات جمعرات کی صبح صوبہ خوست کے گاؤں صدکو میں ہوئیں۔ پاکستان جان بوجھ کر شہریوں کے گھروں اور خانہ بدوشوں کے خیموں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ایک خانہ بدوش خاندان کے چار افراد، جن میں ایک عورت اور ایک مرد، کے علاوہ دو بچے، ایک لڑکی اور ایک لڑکا شامل ہیں، مارے گئے اور تین بچے زخمی ہوئے۔‘

صوبائی گورنر کے دفتر نے بھی اموات کی یہی تعداد بتائی۔ منگل کو حمد اللہ فطرت نے کہا کہ سرحدی صوبے پکتیا میں پاکستانی گولہ باری سے تین شہری مارے گئے۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بھی اے ایف پی کو یہی بتایا۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یو این اے ایم اے) نے کہا ہے کہ افغانستان میں 26 فروری سے 5 مارچ کے درمیان پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں 24 بچوں سمیت 56 شہری مارے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے مطابق تقریباً 115,000 افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔