موکش: “غداری” کو نئے زاویے سے بیان کرنے کے تناظر میں – شاہ میر بلوچ

1

موکش: “غداری” کو نئے زاویے سے بیان کرنے کے تناظر میں

تحریر: شاہ میر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

انسانی تاریخ جبر، وحشت اور ناانصافی کی بے شمار داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ سماجی تضادات، طبقاتی کشمکش اور انسانی رویّوں کو مورخین نے اس باریکی سے قلم بند کیا ہے کہ جب تک دنیا میں انسانی معاشرے موجود رہیں گے، ان کے اعمال اور کردار بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ رہیں گے۔ تاہم اسی تاریخ میں ایسے واقعات اور کردار بھی ملتے ہیں جو اپنے عہد کے جابرانہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ظلم و استبداد کے سامنے پہاڑ کی مانند ڈٹ گئے۔ یہی کردار بعد ازاں تاریخ کے روشن اور عظیم ابواب کا حصہ بن جاتے ہیں۔

تاریخ اپنی فطرت میں بے رحم ہے۔ یہ ہر فرد کو یاد نہیں رکھتی بلکہ صرف اُن لوگوں کو اپنے صفحات میں جگہ دیتی ہے جن کے اعمال یا نظریات انہیں عام انسانوں سے ممتاز کر دیتے ہیں۔ وہی افراد تاریخ کی اجتماعی یادداشت میں زندہ رہتے ہیں جن کے افکار یا جدوجہد کسی بڑے سماجی یا سیاسی عمل سے جڑے ہوتے ہیں۔

بلوچ رہنما بشیر زیب بلوچ اسی روایت کے ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ وہ نہ صرف قومی آزادی کی جدوجہد میں سرگرم ہیں بلکہ اپنے قلم کے ذریعے بھی انقلابی فکر کو ایک نئے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ بلوچ سماج میں اس سے پہلے بھی کئی انقلابی شخصیات موجود رہی ہیں، لیکن بشیر زیب کے الفاظ اپنی معنوی گہرائی کے باعث ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ بظاہر ان کے جملے مختصر ہوتے ہیں مگر ان کی فکری وسعت ایسی ہے کہ انہیں سمجھنے کے لیے کئی کتابوں کے برابر غور و فکر درکار ہوتا ہے۔

ان کی تحریر “موکش” سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:

“غداری ہمیشہ دشمن کے ساتھ کھڑے ہو کر نہیں ہوتی؛ اکثر یہ خود سے سمجھوتے کی شکل میں ہوتی ہے۔ انقلابی انسان وہ نہیں جو اعلان کرے کہ وہ کون ہے، بلکہ وہ ہے جو خاموشی سے ثابت کرے کہ وہ کیا بننے سے انکار کر چکا ہے۔”

اگر اس اقتباس پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مصنف “غداری” کے تصور کو ایک نئے زاویے سے بیان کر رہا ہے۔ یہاں وہ صرف اُن افراد کی بات نہیں کر رہا جو دشمن کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں بلکہ وہ اُس انسان کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو نفسیاتی طور پر مفلوج ہو کر جدوجہد سے خود کو الگ کر لیتا ہے۔

دنیا کی انقلابی تحریکوں میں متعدد رہنماؤں نے غداری کے تصور کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ لیکن نفسیاتی پہلو سے اس کی تشریح نسبتاً کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ بشیر زیب کے ہاں یہی پہلو ایک نئی فکری جہت کے طور پر سامنے آتا ہے۔

غداری کا تصور

غداری بنیادی طور پر اس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں کوئی فرد اپنے ہی سماج، اپنے ہی نظریے یا اپنے ہی لوگوں کے ساتھ دھوکہ کرے۔ تاریخ کی تقریباً ہر انقلابی تحریک میں اس عمل کی مختلف شکلیں سامنے آئی ہیں۔ اسی لیے انقلابی رہنماؤں نے اپنی تحریروں اور نظریات میں اس کی وضاحت کی تاکہ تحریک کے اندر موجود افراد اس خطرے کو پہچان سکیں۔

ولادیمیر لینن کے مطابق روسی انقلابی تحریک میں وہ شخص غدار تصور کیا جاتا ہے جو موقع پرستی اختیار کرے، نظرثانی پسندی کی راہ اپنائے یا تحریک کو بورژوازی کے مفادات کے تابع کرنے کی کوشش کرے۔ لینن کے نزدیک یہ طرزِ عمل پرولتاری جدوجہد کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے۔

اسی طرح چیئرمین ماؤ کے نزدیک وہ تمام اعمال جو سامراجیت، جاگیرداری نظام یا بیوروکریٹک سرمایہ داری کو تقویت دیں، غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ مزید برآں اگر کوئی شخص انقلاب کی روح یعنی نظریے کو مسخ کرے یا اسے غلط انداز میں پیش کرے تو وہ بھی غداری کا مرتکب سمجھا جاتا ہے۔

لیکن بشیر زیب اس تصور کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔

انسانی سمجھوتہ: ایک نفسیاتی پہلو

بشیر زیب کے مطابق غداری صرف سیاسی یا عملی سطح پر دشمن کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی نفسیات کے اندر پیدا ہونے والے سمجھوتے کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک انسان اپنے نظریے، اپنے عزم یا اپنی جدوجہد سے اندرونی طور پر دستبردار ہو جاتا ہے۔

یہ تصور سماجی علوم کے تناظر میں بھی دلچسپ ہے۔ ماہرینِ عمرانیات انسانی اعمال کو عموماً سماجی عمل (Social Action) کے طور پر دیکھتے ہیں۔

معروف فرانسیسی ماہرِ عمرانیات ایمیل دورکھائم (Émile Durkheim) نے “سوشل فیکٹ” کا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسانی رویّے محض فرد کے اندرونی رجحانات کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ سماجی ڈھانچے اور اجتماعی اقدار سے تشکیل پاتے ہیں۔ دورکھائم اپنی تصانیف “Le Suicide” اور “Division of Labour” میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشرہ انسان کے طرزِ فکر اور عمل کو گہرائی سے متاثر کرتا ہے۔

اسی طرح امریکی ماہرِ عمرانیات جارج ہربرٹ میڈ (George Herbert Mead) اپنی کتاب “Mind, Self and Society” میں یہ واضح کرتے ہیں کہ انسانی ذہن کوئی جامد یا تنہا حقیقت نہیں بلکہ ایک سماجی مظہر ہے۔ انسان اپنے معاشرے سے اقدار، نارمز اور رویّے سیکھتا ہے اور انہی کے مطابق اپنی شناخت اور عمل کو تشکیل دیتا ہے۔

بشیر زیب کا منفرد زاویہ

انقلابی معاشروں میں غداری کو عام طور پر ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ بیشتر انقلابی نظریات میں غداری کو اس صورت میں دیکھا گیا ہے جب کوئی فرد دشمن کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے یا تحریک کے خلاف عملی کردار ادا کرے۔

ماؤ، لینن، مارکس، ہو چی منہ اور عبداللہ اوجالان سمیت کئی انقلابی رہنماؤں کے نظریات میں اس تصور کی بنیادی جہت سیاسی اور نظریاتی غداری ہے۔

لیکن بشیر زیب اس تصور میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک غداری صرف دشمن کے ساتھ کھڑے ہونے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی عمل بھی ہو سکتی ہے۔ جب کوئی فرد مایوسی، خوف یا ذاتی مفادات کے باعث جدوجہد سے اپنی وابستگی ختم کر دیتا ہے تو وہ دراصل ایک اندرونی سمجھوتہ کرتا ہے۔

بشیر زیب اسی اندرونی سمجھوتے کو بھی غداری کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔

یہ زاویۂ فکر اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ غداری کو صرف اجتماعی یا سیاسی سطح پر نہیں بلکہ فرد کی داخلی دنیا میں بھی تلاش کرتا ہے۔ یوں یہ تصور سماجی اور نفسیاتی علوم کے درمیان ایک نئی فکری جہت پیدا کرتا ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو بشیر زیب کی یہ تعبیر محض ایک ادبی یا سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک نئی فکری تخلیق کے طور پر سامنے آتی ہے جس میں سماجی ساخت اور انسانی نفسیات دونوں کو یکجا کر کے غداری کے تصور کو ازسرِ نو بیان کیا گیا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔