قصہِ جنگ، کہانی کامریڈ جعفر مینگل عرف سمیر – ہارون بلوچ

42

قصہِ جنگ، کہانی کامریڈ جعفر مینگل عرف سمیر

تحریر: ہارون بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مجھے ذاتی طور پر اکثر یہ بات ستاتی ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں ایسے ان گنت کردار ہیں جن پر لکھنا، انہیں بیان کرنا، ان کے کردار اور خواری کو قوم تک پہنچانے کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے ہم شاید ایک ایسے انقلاب کے اندر جی رہے ہیں جس کے اندر عملی کردار زیادہ ہیں اور ان پر لکھنے والے کوئی نہیں ہیں۔

ایک جنگی اور انقلابی کردار کی تشریح بھی اتنی آسان نہیں کہ آپ چند الفاظ جوڑ توڑ کر اس کے حوالے سے لکھیں اور اس کی حقیقت قوم تک پہنچے، یا قوم اس خواری، تکلیف اور مشکلات کا احساس کرے جو ایک سرمچار کردار کے روپ میں نبھاتا ہے۔

کامریڈ جعفر مینگل پر کئی مرتبہ لکھنے کا آغاز کیا۔ یہ کہانی کئی مرتبہ بہت دور تک چلی گئی، اور پھر سب کچھ واپس مٹا دیتا تھا، کیونکہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے میں خود کو ہمیشہ کھوکھلا محسوس کرتا ہوں، اور ایک کھوکھلا انسان کسی کے کردار کے ساتھ کس طرح انصاف کر سکتا ہے۔

آج بھی یہ ایک کوشش ہے۔ مجھے پتا نہیں کہ میں اس کو مکمل کر پاؤں گا یا نہیں، کیونکہ کامریڈ جعفر مینگل کے کردار کے ساتھ انصاف کرنا اپنی قد سے بہت آگے جانے کی کوشش ہے۔

کامریڈ کے کردار پر جو بھی باتیں لکھی جائیں گی، یہ اس کی ایک جھلک دلانے کی صرف ایک کوشش ہے، اس کے کردار کے ساتھ انصاف نہیں۔ یہ اعتراف لکھنے سے پہلے اس لیے کر رہا ہوں کہ کچھ کردار بیان نہیں ہو پاتے، ان کے ساتھ صرف جیا جا سکتا ہے، انہیں محسوس کیا جا سکتا ہے۔

کماش بشیر زیب اپنی کتاب موکش کے اندر ایک انقلابی کردار اور اس کی شخصیت پر بات کر کرتے ہیں، میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ کوئی الگ علم کی ایجاد نہیں کر رہے ہیں یا کوئی ایسی الگ تھیوری پیش نہیں کر رہے جو مختلف ہو، بلکہ اصل میں وہ کامریڈ جعفر مینگل جیسے ایک انقلابی کردار کو الفاظ میں بیان کر رہے ہیں اور اپنے تمام سرمچار ساتھیوں کو اس کردار کی طرح اپنے کردار کی تشکیل کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

جب آپ سرمچاری کی تمام حدود تک پہنچتے ہیں، جب آپ راست گوئی، انقلابی حوصلے کی مثال، محنت و خواری اور تکلیف کو علم کی بنیاد بناتے ہیں، تنظیم کے ہر سخت اور مشکل فیصلے اور مرحلے کو خود لے کر اسے انجام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، جب آپ صرف الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ عملی میدان میں اپنی باتوں پر کھڑا رہنے اور انہیں ثابت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، جب آپ جنگی میدان کے ہر عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کی صلاحیت کا عملی نمونہ ہوتے ہیں، جب آپ ہر سنگتی، یاری اور ہمدردی کو جنگ کے بنیادی فلسفے کے طور پر اپنی روح میں جذب کر لیتے ہیں، جب آپ کے لیے عمل صرف اپنی لی گئی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے دیگر ساتھیوں کی مشکلات اور ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کا نام ہو، جب آپ جنگ کے ہر سخت اور مشکل مرحلے میں خود کو سب سے آگے رکھتے ہیں اور اپنے دیگر ساتھیوں سے پہلے ہمیشہ خود تمام قربانیاں دینے کے لیے راضی ہوتے ہیں، جب آپ جنگ کے میدان میں چند کارروائیوں کو انقلابی کامیابی نہیں بلکہ مسلسل عمل، مستقل مزاجی اور نئی ذمہ داریوں اور نئے کردار کی تشکیل کو اپنی عادتیں بناتے ہیں، جب آپ کے لیے ساتھیوں کا مطلب صرف افراد نہیں بلکہ انقلابی سنگت ہو، جب آپ کے لیے انقلاب اور جنگ کا مطلب صرف کام کرنا نہیں بلکہ ذمہ داریوں تک پہنچنا ہو، جب آپ انقلاب کو ایک حد میں بند نہیں کرتے اور اس کے لیے ہر انتہا تک پہنچنے کی جسارت رکھتے ہیں، جب آپ کے لیے سرمچاری کا مطلب صرف بندوق لے کر خود کو مطمئن کرنا نہیں بلکہ اس بندوق کے ساتھ اور اس بندوق سے جڑے اس فکر کے ساتھ مخلصی اور کمٹمنٹ کی انتہا پر ہونا ہو اور اس کے ساتھ انصاف کرنے کی حقیقت سے آشنا ہونا ہو، جب آپ جنگ میں دلیل کو غیر متزلزل رویہ نہیں بلکہ اسے جنگ کے عمل کا ایک اہم اور بنیادی نقطہ سمجھتے ہیں، جب آپ سرمچاری کے مقاصد اور اس کے جذبات و احساسات سے آشنائی حاصل کرتے ہیں، جب آپ سرمچار بن کر ہی اپنے کردار کی تشکیل کرنے پر کام کرتے ہیں اور اس کو بہتر بنانے کے لیے جستجو کرتے ہیں۔

جب آپ علم کو عمل کا ایک بنیادی نقطہ سمجھتے ہیں، جب آپ جنگ کے تمام دلائل سے آشنا ہوتے ہیں اور جنگ کے ہر مرحلے اور حقیقت کو قبول کرنے کی انتہا تک پہنچتے ہیں، جب اپنے رویے اور اٹھنے بیٹھنے اور عام زندگی میں ایک مکمل انقلابی کردار کے روپ میں ڈھل جاتے ہیں، جب آپ اپنی ذات سے مکمل طور پر الگ ہو جاتے ہیں اور صرف ایک کردار کے طور پر زندہ رہنا شروع کرتے ہیں، جب آپ اپنے اردگرد ایک کردار کے طور پر اثر چھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب آپ کی تشکیل دکھاوے کی نہیں بلکہ ذہنی، فکری اور علمی بنیاد پر پروان چڑھتی ہے، اور جب آپ انقلابی شعور کی انتہا تک پہنچ کر بلوچ فدائی کے صفوں میں کھڑے رہتے ہیں، جب آپ انہیں قیادت کرنے کے قابل بن جاتے ہیں، جب آپ کے دل میں دشمن کے کسی بھی حصار کو توڑنے کے لیے کوئی خوف موجود نہ ہو، جب آپ اپنے عوام سے شعوری اور فکری طور پر اس حد تک جڑ جاتے ہیں کہ اس کے درد کو اپنے اندر محسوس کرتے ہیں، اور جب آپ انقلابیت کے تمام اصولوں تک پہنچ جاتے ہیں اور انسان کے روپ میں ایک انقلابی کردار کی شکل میں چلتے پھرتے ہیں، جب تمام انقلابی اصولوں کا جنم آپ جیسے کردار سے ہونا شروع ہو جائے تو پھر آپ کامریڈ جعفر مینگل بن جاتے ہیں۔

پھر آپ کامریڈ جعفر مینگل کی طرح دشمن کے حصاروں کے اندر بے خوف، نڈر اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے ایک ایسے انقلاب کے اندر امر ہو جاتے ہیں جو انسانیت کی بقا کے لیے ہے، پھر آپ کامریڈ سمیر بن جاتے ہیں جو یاری، دلداری اور سنگتی میں ایک الگ اور بے پناہ محبت کرنے والا انسان ہو، جو تنظیمی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ایک بہترین اور منظم جنگی کمانڈر کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو تنظیم کے ہر کام اور ذمہ داری کو سب سے پہلے اپنے کندھوں پر لینے کی صلاحیت رکھتا ہو، جو کسی بھی جنگ میں پہلی صفوں میں موجود رہتا ہے۔

پھر آپ کامریڈ سمیر عرف جعفر مینگل بن جاتے ہیں جو درجنوں بلوچ فدائین کو کمان کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں اور چھ دن تک قابض پاکستان اور اس کے ڈھانچے کو تہس نہس کر دیتے ہیں، جو چھ دن تک دشمن کے ساتھ دو بدو مسلسل لڑتے ہیں، دشمن کے ہر بڑے اور مضبوط حصار والے کیمپ اور کمپاؤنڈ کو صاف کرنے کے لیے پہلی صف میں موجود رہتے ہیں۔

جب جہاں اور کسی بھی مقام پر دشمن کسی بھی نیٹ ورک اور کسی بھی فدائی ساتھیوں کے لیے مشکلات پیدا کر دیتا ہے تو آپ ان کے راستے کلئیر کرنے کے لیے ان کی قیادت کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ آپ دشمن کے درجنوں سپاہیوں کو آمنے سامنے کی لڑائی میں قتل کر دیتے ہیں، ہیروفی جنگ میں آپ صرف ہیروف کی لڑائی نہیں لڑ رہے ہوتے بلکہ خود ہیروف کا روپ دھار لیتے ہیں اور انسانی روپ میں ایک ہیرو بن جاتے ہیں۔

پھر آپ پر پوری تنظیم اس حد تک اعتماد اور یقین رکھتی ہے کہ جب بھی شور کے آپریشنل کمانڈر کو کسی بھی مصروفیت کی وجہ سے کسی بھی جنگ کی کمان کسی ساتھی کو دینے کی بات آتی ہے تو اس کے ذہن میں براہ راست کامریڈ سمیر آ جاتے ہیں، پھر جب بھی کیمپ کے اندر کسی بھی ساتھی کو کسی بھی طرح کا کوئی مسئلہ، چاہے وہ سیاسی نوعیت کا ہو یا جذبات اور احساس کی صورت میں ہو یا کسی بھی کیفیت کا شکار ہو، وہ آپ کے پاس آ جاتا ہے اور آپ اسے ہر معاملے پر واضح کرتے ہیں۔ جب بھی کسی علاقے میں نیا گشت نکالنے کی بات ہو یا دشمن کے کسی بڑے قافلے کو ایمبوش کرنے کی بات ہو، آپ کی نظریں کامریڈ سمیر کو دیکھ رہی ہوتی ہیں۔اور جب آپ آپریشن ہیروف جیسے حساس اور اہم آپریشن کے آپریشنل نمائندوں اور ذمہ داروں کی صورت میں کام کرنے کے لیے سب سے آگے رہتے ہوں۔

سرمچار بننا صرف بندوق اٹھانے، مول لینے، پہاڑوں میں رہنے، پرانے کپڑے پہننے، بڑے بال اور بڑی مونچھیں رکھنے، فوجی وردی پہننے، سر کی ٹوپی پر بلوچستان کا جھنڈا لگانے، دشمن کو گالیاں نکالنے، چند گولیاں چلانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ذمہ داری کا نام ہے، ایک احساس اور ایک جذبے کا نام ہے، قربانی کی ہر انتہا کو چھونے، بے خوف، نڈر ہو کر تنظیم کے ہر آپریشن کو ذمہ داری سے انجام دینے، دلیل کے ساتھ لڑنے، منظم شکل میں، ڈسپلن کے اندر رہتے ہوئے عوام کے اندر جانے، تنظیم کو اپنانے، اپنے کمانڈ اینڈ چین کو مکمل فالو کرنے، اپنی ذمہ داریوں کے حکم کی تعمیل کرنے اور نئی ذمہ داریاں نبھانے اور لینے کا نام ہے۔

کامریڈ سمیر جیسے انسان سرمچاری کے اس مقام تک اس لیے پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اسے ایک شوق یا دلچسپی کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ وہ اسے احساس ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسے نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو مسلسل جستجو میں رہتے ہیں، اپنی غلطیوں کو ڈھونڈنے اور انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو مسلسل حرکت میں رہتے ہیں، عمل میں رہتے ہیں، نئے فیصلے اور نئے طریقے سیکھنے پر کام کرتے ہیں، جو اپنے کردار کو محدود نہیں بلکہ اسے وسیع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو مسلسل عمل میں اور تلاش میں رہتے ہیں، اپنی شخصیت پر کام کرتے ہیں اور جہاں بھی کوئی کمزوری دیکھتے ہیں اسے دور کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔

ایک ساتھی کے بقول، سمیر ہمیشہ جستجو میں رہتا، کچھ نیا سیکھنے، کچھ نیا سکھانے، کیمپ کے اندر آنے والے نئے ساتھیوں پر کام کرنا، انہیں وقت دینا، ان کے ذہنوں کے اندر پیدا ہونے والے سوالات کو حل کرنا، انہیں جنگ سے آشنا کروانا، اور جب بھی کوئی جنگ ہوتی تو وہ براہِ راست فرنٹ لائن پر دشمن کے خلاف لڑتا اور دیگر ساتھیوں کے لیے ایک مثال بن جاتا۔

بقول ایک سنگت، عام طور پر ہم جب بھی کسی جنگ میں جاتے، بڑا سفر کرتے اور جنگ سے واپس آتے تو براہ راست آرام کرنے کے لیے اپنا ذہن بنا لیتے، لیکن کامریڈ اس طرح نہیں تھا۔ کیمپ پہنچ کر ہی وہ ایک نئے کام اور ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے اپنا وقت لگانا شروع کر دیتا اور کسی دوسرے کام پر توجہ دیتا، یا کسی گشت یا سفر پر روانہ ہو جاتا۔

آرام اور کمفرٹ کی تلاش کرنا عام انسانوں کا کام ہوتا ہے اور یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے، لیکن ایک انقلابی کے لیے کوئی آرام جیسی دنیا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے تکلیف، مشکلات اور خواری ہی اس کی زندگی کا سکون اور خوشی ہوتی ہیں، کیونکہ انہی کو کاٹ کر ہی تحریک اور جدوجہد کے لیے بہتر کام کیا جا سکتا ہے۔

ایک ساتھی سوراب جنگ کا قصہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپریشنل کمانڈر اس جنگ کی کمان کی ذمہ داری کامریڈ سمیر کے سپرد کی تھی۔ ہم چار دن تک سفر کرتے رہے۔ سفر کے دوران تمام ساتھیوں کا خیال رکھنا، انہیں بار بار پوچھنا، ان کا حوصلہ بڑھانا، ہمیشہ فرنٹ لائن پر خود رہنا، اور دشمن کے کیمپ کی ریکی و جنگ کا آپریشنل پلان تشکیل دینا، ساتھیوں کی پوزیشن سے لے کر تمام معاملات کو دیکھنا، کامریڈ کی بنیادی سرگرمیاں تھیں۔ جب جنگ شروع ہوئی تو وہ پہلی صفوں میں موجود تھا، جنگ بھی کر رہا تھا اور اسی دوران دیگر ساتھیوں کو جنگ کے حوالے سے مسلسل اپڈیٹ اور انہیں ہدایات بھی دے رہا تھا۔

ایک کامیاب جنگ کے بعد جب ہم سوراب سے نکلے تو ہمیں مزید تین دن کا سفر کرنا پڑا۔ تین دن تک سفر کرنے کے بعد جب ہم کیمپ پہنچے تو بیشتر سنگت اور ساتھی تھکاوٹ کا شکار تھے اور آرام کا خیال کر رہے تھے، لیکن کامریڈ کیمپ پہنچ کر اپنے آپریشنل کمانڈر کو جنگ کی تمام تفصیلات بتانے کے بعد واپس پھر کسی ایک گشت کے سلسلے میں نکل گیا۔

میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ ایک انسان اپنی ذات سے اس حد تک کیسے الگ ہو سکتا ہے۔

انقلاب، جنگ، تحریکیں، یہ اصل میں انسانوں کے کردار سے بنتی ہیں۔ یہ بایولوجیکل چیزیں نہیں بلکہ انسانوں کے کردار سے تراشے گئے نتائج ہیں۔ انقلاب کے کوئی الگ اور ذاتی معنی یا تبصرہ موجود نہیں ہوتا بلکہ وہ انہی کرداروں کے عمل اور سرگرمیوں سے بنتا ہے۔
جب ہم بلوچ انقلاب، تحریک، جنگ، سرمچار جیسے الفاظ کہتے ہیں اور جن کے ساتھ ہمارے احساس اور جذبات جڑے ہوئے ہیں، یہ کامریڈ سمیر جیسے انسانوں کے کردار سے ہی بنتے آ رہے ہیں۔ جب آپ اپنے کردار میں ایک انقلابی شکل اختیار کرتے ہیں یا ایک انقلابی جہدکار کا نمونہ بن جاتے ہیں، پھر آپ سے انقلاب کی تشریح ہوتی ہے، آپ سے جنگ کی تشریح ہوتی ہے۔

اگر آپ کا کردار کمزور ہو جاتا ہے تو پھر اس کا تعلق صرف آپ کی ذات سے نہیں ہوتا بلکہ انقلاب، جنگ اور سرمچاری کی تشریح اور مطلب بھی اسی طرح لیا جاتا ہے اور اسے ایک کمزور کے طور پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ آج اگر سرمچاری ایک احساس اور جذبات کی شکل اختیار کر چکا ہے، ایک ذمہ داری کے طور پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ کامریڈ سمیر جیسے کردار ہیں جو اپنے عمل سے انقلاب، جدوجہد اور سرمچاریت کو معنی دیتے ہیں، انہیں احساسات کی شکل میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

جنگ کے اندر مثالی کردار نہایت اہم ہوتے ہیں۔ ہمیں عام طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا، لیکن ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں ایک روایت کو برقرار رکھ رہے ہوتے ہیں، ایک مثال قائم کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک انقلابی کردار کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی عادتوں کے ذریعے انقلاب اور جنگ کے مستقبل کے لیے کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔

ہم عام طور پر کسی ایک سرگرمی کو انقلابی عمل سے جوڑ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی سرگرمی کی بات کی جائے تو چند پیسے دے کر ایک کتاب بھی لکھوائی جا سکتی ہے، پیسے دے کر ایک دو حملے بھی کروائے جا سکتے ہیں یا کسی کو بلیک میل کرکے بھی کوئی کام نکلوایا جا سکتا ہے، لیکن یہ سب انقلاب اور تحریک کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ محض سرگرمی کے زمرے میں آتے ہیں۔

کامریڈ سمیر جیسے کردار عمل کو محض سرگرمی کی صورت میں نہیں نبھاتے، بلکہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس کردار اور انقلابی جدوجہد کی مثال بن جاتے ہیں، جو اپنے اردگرد موجود دیگر ساتھیوں پر اثر چھوڑتے ہیں اور ایک مثال قائم کرتے ہیں۔

کامریڈ کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد میں ذاتی طور پر اس بات سے بہت متاثر ہوا کہ آج ایک سرمچار کس حد تک کامل اور مکمل ہے۔ گو کہ ماحول اور حالات کی نزاکت کی وجہ سے میں کامریڈ کے ساتھ زیادہ وقت گزار نہ سکا اور وہ جلد ہی اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کے سلسلے میں ہم سے الگ ہو گئے، لیکن کم عرصے میں ہی انہوں نے بہت سی چیزیں واضح کر دی تھیں۔

بقول استاد، کامریڈ ایک واضح فکر رکھنے والا سرمچار تھا۔ انہوں نے کبھی بھی چیزوں کو متنازع یا بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا اور نہ ہی چیزوں میں پیچیدگیاں پیدا کیں، بلکہ آسان زبان میں تنظیمی ذمہ داریوں اور سرگرمیوں کے سلسلے میں اپنی بات رکھتے اور انہیں عملی شکل میں انجام دیتے تھے، اور کسی بھی معاملے کو پیچیدہ نہیں بناتے تھے۔

جب آپ ذہنی طور پر واضح ہوتے ہیں، جنگ، اس کی حقیقت، اس کے انجام اور نقصان و فائدہ کا فکری و علمی شعور رکھتے ہیں، تو پھر جنگ میں آپ کسی بھی قسم کی منفی سوچ نہیں دکھاتے، بلکہ آپ کے لیے سب چیزیں واضح ہو جاتی ہیں اور آپ کی تمام توجہ اپنی ذمہ داریوں کو سرانجام دینے پر مرکوز رہتی ہے۔ مگر جب آپ کمزور ہوتے ہیں، اپنے فیصلوں اور تحریک کے شعور سے محروم ہوتے ہیں، یا فکری و نظریاتی طور پر تحریک کو قبول نہیں کرتے، اور تحریک کے اندر موجود تمام کامیابیوں اور کمزوریوں کو اپنا نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں اپنانے سے انکار کرتے ہیں، تو پھر آپ کے لیے تحریک انتہائی سخت لگنے لگتی ہے۔

لیکن کامریڈ اپنے مقصد، جدوجہد اور اس کے نتیجے سے اچھی طرح واقف تھا اور شعوری طور پر اس حقیقت کو قبول کر چکا تھا۔ تحریک اور جدوجہد کی اسی حقیقت کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے فدائی حملے کا فیصلہ کیا تھا۔ گوکہ اگر وہ چاہتا تو اس کے لیے اس طرح کے فیصلے کرنے کی نوبت بھی نہیں آتی کیونکہ کامریڈ جیسے سرمچار اپنے جدوجہد میں ہی فدائی کی شکل میں موجود ہوتے ہیں اور اپنی زمہ داریوں کو اس انتہا اور سنجیدگی سے نبھا رہے ہوتے ہیں اور تحریک وجدوجہد پر ایسے ہی اثرات چھوڑ رہے ہوتے ہیں جو وہ موت کے شعوری فیصلے کے ساتھ کرتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ انقلاب اور انقلابی جنگ و جذبے کی کوئی انتہا و مقام نہیں بلکہ یہ بے انتہا ہوتا ہے اور کامریڈ نے اپنی زندگی میں اور اپنی شہادت کے ساتھ انہیں بہترین انداز میں ساتھیوں کے سامنے واضح کیا۔
بقول ایک ساتھی، کامریڈ عام طور پر ایک مزاحیہ مزاج کا انسان تھا۔ ساتھی سنگتوں کے ساتھ دیوان اور مجلسیں عام ہوتی تھیں۔ وہ ساتھیوں کو وقت دیتا، مزاح کرتا، لیکن جب بھی تنظیم کی بات آتی، تنظیمی ذمہ داریوں اور سرگرمیوں کا معاملہ سامنے آتا تو اس کا مزاج مکمل طور پر بدل جاتا۔ وہ تنظیم کے کسی بھی کام یا سرگرمی کے سلسلے میں مزاح نہیں کرتا تھا بلکہ سنجیدگی سے انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کام کرتا تھا۔

ایک انقلابی جہدکار کی خوبصورتی کا اندازہ اس کی تنظیم سے وابستگی اور تعلق سے لگایا جا سکتا ہے۔ جو بھی ساتھی تنظیم کو لے کر مخلص اور سنجیدہ ہو جائے، جس کے لیے تنظیمی احکامات کی اہمیت و قدر ہو، جو تنظیمی چین آف کمانڈ کو اپنے لیے ایک عبادت کے طور پر دیکھتا ہو، اور جو تنظیم کی پابندیوں کو انفرادی اور اجتماعی ترقی و بہتری کے لیے ضروری سمجھتا ہو، تو وہ ایک کامیاب انقلابی سنگت بن جاتا ہے۔کامریڈ بھی اسی انقلابی فکر سے تعلق رکھنے والا سنگت تھا، جو تنظیم کو اہمیت دیتا، تنظیمی ذمہ داریوں کو لے کر سنجیدگی سے انہیں پورا کرنے کے لیے اپنا وقت دیتا، انہیں بہتر بنانے پر کام کرتا اور انہیں مکمل کرنے کے لیے ہر حد تک جاتا تھا۔
عام طور پر کامریڈ بہت زیادہ ہوتے ہیں، لیکن لفظ “کامریڈ” کے ساتھ انصاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کامریڈ سمیر ان انقلابی قبیلوں کا ساتھی تھا جنہوں نے انقلاب اور جنگ کے اندر ان القابات کے ساتھ انصاف کیا ہے جو ہمارے ہاں عام سمجھے جاتے ہیں، مگر ہم ذہنی طور پر انہیں تسلیم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اس وقت ایسے بھی سینکڑوں سرمچار ہوں گے جنہوں نے بعد ازاں دشمن کے سامنے سرینڈر کیا۔ چند لمحے رک کر سوچیے، کیا کوئی سرمچار سرینڈر کر سکتا ہے؟ یہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو وقتی طور پر ساتھیوں کے یہاں پہاڑوں پر رہے ہیں یا جنگیں بھی لڑی ہیں، لیکن وہ حقیقی سرمچار نہیں تھے یا انہوں نے حقیقی معنوں میں سرمچاری اور جدوجہد کو سمجھا ہی نہیں ہے اور اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے۔

جب بھی کامریڈ کے ساتھ کوئی مجلس یا دیوان ہوتا تھا تو میں نے اسے کبھی خوش فہمی میں مبتلا نہیں دیکھا۔ وہ مسلسل اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا، انہیں سامنے لاتا اور خود کو براہ راست ان میں شامل کرتا تھا۔ وہ اپنی جان نہیں چھڑاتا تھا۔ایک دن ایک واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے نہایت دردناک آواز اور انداز میں کہا کہ مجھے اکثر یہی لگتا ہے کہ ہم اس لفظ “سرمچار” کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے ہیں۔ جو عزت و مقام ہمارے لوگ، ہماری قوم ہمیں دیتی ہے، وہ بہت بڑی قیمت ہے۔ اس کو ادا کرنے کے لیے بہت بڑی قربانی اور انفرادی طور پر خود کو بہت بلند کرنا پڑتا ہے، جو ہم نہیں کر پا رہے۔

ایک انقلابی شخصیت کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے، اور وہ اتنا سادہ ہے جتنا میں کامریڈ کے چہرے اور عمل میں دیکھتا تھا۔ وہ ہر کمزوری کو اپنے نام کر لیتا تھا۔ وہ اسے دوسروں پر نہیں ڈالتا تھا بلکہ اسے اپنا سمجھتا تھا کہ یہ ہماری غلطی، ہماری کمزوری اور ہماری نالائقی کی وجہ سے ہوا ہے، یا ہم اتنا کر سکتے تھے لیکن ہم نے نہیں کیا۔ وہ خود کو بری الذمہ نہیں کرتا تھا بلکہ ذمہ داریاں اٹھاتا تھا۔
اگر آپ جدوجہد کے اندر کسی بھی پالیسی لائن سے وابستہ ہیں یا کسی تنظیم کا حصہ ہیں، اور اس میں موجود ذمہ داریوں کو دوسروں پر ڈال رہے ہیں جبکہ خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں، تو یقین جانیں کہ آپ حقیقت میں ایک غیر انقلابی شخص ہیں۔ کیونکہ ایک انقلابی جہدکار کی پہچان یہ ہے کہ وہ ذمہ داریوں اور کمزوریوں کو سب سے پہلے اپنی ذات سے قبول کرتا ہے، اور کسی بھی تنظیم یا تحریک میں تبدیلی کا اصل طریقہ یہی ہے کہ کام کا آغاز خود سے کیا جائے۔

میں نے کامریڈ کو کبھی بھی کسی غیر انقلابی رویے یا اجتماعی معاملے پر دوسروں پر تنقید کرتے نہیں دیکھا۔ وہ مسلسل خود سے اور اپنی ذات سے ان چیزوں کو بہتر بنانے کی بات کرتا تھا کہ ہم ایک انقلابی جہدکار کی حیثیت سے تنظیم اور تحریک کو کیا دے سکتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انقلاب کی باتیں کرنا آسان ہوتا ہے، مگر عملی طور پر انہیں قبول کرنا اور اپنانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ لیکن کامریڈ جن باتوں کا ذکر کرتا تھا، وہ انہیں عملی شکل میں نبھانے پر بھی زور دیتا تھا۔

ایک سنگت کے بقول، آخری ایام میں میں نے کامریڈ کو ہمیشہ اپنی فوجی عادات و رویوں پر بات کرتے دیکھا۔ وہ مسلسل خود سے اور ہم سے سوال کرتا تھا کہ کیا واقعی ہم ایک فوجی کے تقاضے پورے کر رہے ہیں؟ گو کہ ہم انفرادی طور پر اس جنگ کا حصہ بن چکے ہیں اور رضاکارانہ طور پر یہ فیصلہ لیا ہے، لیکن چونکہ اب ہم ایک فوجی نظام اور ادارے کا حصہ ہیں، تو ہماری ذمہ داریاں بھی بنتی ہیں کہ ہم ایک فوجی کی حیثیت سے جدوجہد کے اندر اپنا کردار ادا کریں۔

یقیناً جدوجہد میں تمام نقصانات ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں، لیکن ہر جہدکار اور ہر نقصان کی ایک الگ داستان اور کہانی ہوتی ہے۔ انقلابی جدوجہد کے اندر کوئی بھی ساتھی کسی کی جگہ نہیں لے سکتا، کیونکہ ہر انقلابی سنگت کی اپنی خصوصیات، قابلیت اور صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ کامریڈ نے ایک سرمچار کا جو عملی نمونہ اپنی زندگی اور آخری سانس تک پیش کیا، یقیناً وہ ایک مشعلِ راہ ہے اور موجودہ و نوجوان نسل کے سرمچاروں کے لیے ایک مثالی کردار ہے کہ ایک حقیقی اور مکمل سرمچار کی شناخت اور عملی زندگی کیسی ہوتی ہے۔

کامریڈ سمیر کے لیے سب سے اہم یہ بات تھی کہ ہم موجودہ پوزیشن سے بہتر کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس کی جستجو ہمیشہ اس بات پر مرکوز رہتی تھی کہ ہم نے اب تک کچھ نہیں کیا، ہماری منزل بہت دور ہے، ہمیں تنظیم بنانی ہے، نظام تشکیل دینے ہیں اور ایک مضبوط فوجی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔ جب ایک انقلابی سنگت مطمئن ہو جاتا ہے تو سمجھو کہ وہ اپنی تباہی کو دعوت دے رہا ہے۔ ایک مطمئن انقلابی ایک سوئے ہوئے پرندے کی مانند ہوتا ہے جسے کوئی بھی آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایک انقلابی جہدکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ جستجو میں رہے، بہتر ہونے کی کوشش کرتا رہے اور نئی چیزوں کو اپناتا رہے۔ یہی خصوصیات کامریڈ کے اندر بھی تھیں؛ وہ مسلسل جستجو میں رہتا تھا اور سیکھنے اور چیزوں کو بہتر بنانے پر مستقل کام کرتا تھا۔ آج کامریڈ ان شہید ساتھیوں میں شمار ہو چکا ہے جنہوں نے اس کاروان کی بنیاد رکھی اور کامریڈ اور ہم جیسے ہزاروں لوگوں میں یہ شعور دیا کہ ہماری اجتماعی زندگی اور مقصد کے لیے ہمیں اس جنگ کا حصہ بننا ہے اور اس کی کامیابی کے لیے اپنا سب کچھ وار کرنا ہے۔ یقیناً کامریڈ کی قربانیاں کبھی بھی رائیگاں نہیں جائے گی اور جو مثال اور مقام انہوں نے اپنے عمل سے رکھا ہے اسے دیگر سینکڑوں ساتھی اپنائیں گا ور کامریڈ کے اس کاروان کو منزل تک پہنچائیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔