شعیبؔ نظریاتی سنگت کی ایک روشن مثال
تحریر: نودشان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
سنگت محض ساتھ چلنے کا نام نہیں، اور ہر قربت کو سنگت نہیں کہا جا سکتا۔ زندگی میں بہت سے لوگ ہمارے ساتھ کچھ فاصلے تک چلتے ہیں، مگر ہر ہمسفر انسان کی سوچ اور اس کے راستے کو نہیں بدلتا۔ اصل سنگت وہ ہوتی ہے جو انسان کے اندر شعور کی ایک نئی روشنی پیدا کرے، اسے اپنے ہونے کے معنی سمجھائے اور اسے مقصد کے ساتھ جینے کا حوصلہ دے۔ عام سنگت وقت کے ساتھ ایک یاد بن جاتی ہے، لیکن نظریاتی سنگت انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ اسی لیے بعض لوگوں کو صرف دوست کہنا ان کے مقام کو محدود کر دیتا ہے، کیونکہ وہ دوست سے بڑھ کر استاد اور رہنما ہوتے ہیں۔
شعیبؔ بھی انہی نایاب لوگوں میں سے ایک تھا۔ اس کی موجودگی محض ایک دوستی نہیں بلکہ ایک فکری قربت تھی۔ وہ زیادہ بولنے والوں میں سے نہیں تھا، مگر اس کی خاموشی بھی معنی رکھتی تھی۔ جب وہ بات کرتا تھا تو اس کے الفاظ میں سادگی ہوتی تھی مگر سوچ میں گہرائی ہوتی تھی۔ اس کی سنگت میں بیٹھنے والا انسان صرف وقت نہیں گزارتا تھا بلکہ اپنے اندر ایک نئی سوچ لے کر اٹھتا تھا۔ وہ لوگوں کو یہ احساس دلاتا تھا کہ انسان کی اصل طاقت اس کی آزاد فکر اور اس کے اصولوں میں ہوتی ہے۔
9 مارچ اب صرف ایک تاریخ نہیں رہی بلکہ ایک یاد، ایک خلا اور ایک احساس بن چکی ہے۔ آج اس حادثے کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں جب شعیبؔ اپنے دوستوں کے ساتھ بلوچستان میں ایک المناک سڑک حادثے میں ہم سے جدا ہو گیا تھا۔ وہ لمحہ اچانک آیا اور سب کچھ بدل گیا۔ ایک ایسا انسان جو اپنے خوابوں، اپنی سوچ اور اپنے دوستوں کے ساتھ زندگی کے سفر میں آگے بڑھ رہا تھا، اچانک اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی زندگی سے زیادہ اپنی فکر کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ شعیبؔ بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا۔
شعیبؔ کی سنگت عام سنگتی نہیں تھی۔ وہ لوگوں کو صرف ساتھ نہیں رکھتا تھا بلکہ انہیں سوچنے کا ہنر سکھاتا تھا۔ وہ انسان کو اس کی شناخت، اس کے حالات اور اس کی ذمہ داریوں سے روشناس کراتا تھا۔ اس کے نزدیک سب سے بڑی طاقت انسان کی بیدار سوچ ہوتی ہے۔ اسی لیے جو لوگ اس کے قریب رہے وہ صرف دوست نہیں رہے بلکہ ایک ایسی فکر کے امین بن گئے جو شعیبؔ نے خاموشی سے منتقل کی۔
وطن کی محبت اس کے لیے محض ایک نعرہ نہیں تھی بلکہ ایک سنجیدہ ذمہ داری تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے عہد، اپنے معاشرے اور اپنے حالات کو سمجھنا ہے۔ اس کے نزدیک اگر انسان کی سوچ آزاد نہ ہو تو علم بھی ایک قید بن جاتا ہے۔ اسی لیے وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ اصل جنگ میدانوں میں نہیں بلکہ انسان کے اندر لڑی جاتی ہے۔ جو انسان اندر سے آزاد ہو جائے وہ کسی زنجیر کو قبول نہیں کرتا۔
بولان اس کے دل کے بہت قریب تھا۔ وہ اسے صرف ایک جگہ نہیں بلکہ ایک خواب سمجھتا تھا۔ بولان کی مٹی اور اس کے پہاڑ اس کے لیے شناخت، قربانی اور حوصلے کی علامت تھے۔ وہ اکثر دعا کرتا تھا کہ اگر قسمت میں ہو تو اسی سرزمین پر وطن کے لیے قربان ہونا نصیب ہو، کیونکہ اس کے نزدیک اپنے وطن کے لیے جینا اور مرنا ہی انسان کی سب سے بڑی تکمیل ہے۔ مگر تقدیر نے اس کی زندگی کا راستہ کسی اور طرح لکھ دیا۔ وہ خواب جو وہ بولان کی پہاڑیوں میں دیکھتا تھا، اس سے پہلے ہی ایک حادثے نے اسے ہم سے جدا کر دیا۔ لیکن ایسے لوگ حقیقت میں کبھی رخصت نہیں ہوتے۔ وہ اپنے پیچھے ایک ایسی فکر چھوڑ جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتی نہیں بلکہ مزید پھیلتی ہے۔ شعیبؔ بھی اپنے پیچھے ایک ایسی ہی فکر چھوڑ گیا جو آج بھی بہت سے دلوں میں زندہ ہے۔
آج دو سال گزرنے کے باوجود شعیبؔ ماضی کا حصہ نہیں بنا۔ وہ بلوچستان کی مٹی میں، بولان کے پہاڑوں میں اور ہر اس دل میں زندہ ہے جو شعور اور آزادی کی بات کرتا ہے۔ وہ اب صرف ایک فرد نہیں رہا بلکہ ایک فکر بن چکا ہے، اور فکر کو موت نہیں آتی۔
شعیبؔ کی یاد میں صرف آنسو بہانا کافی نہیں۔ اصل وفا یہ ہے کہ اس کے کردار، اس کے اصول اور اس کی سوچ کو زندہ رکھا جائے۔ کیونکہ جو انسان خود راستہ بن جائے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ آنے والوں کے لیے روشنی اور حوصلہ بن جاتا ہے۔
شعیبؔ ہمیں یہ سکھا گیا کہ نظریاتی سنگت صرف ساتھ چلنے کا نام نہیں بلکہ انسان کو شعور، ذمہ داری اور مقصد کے بوجھ کو اٹھانے کے قابل بنانے کا نام ہے۔
شعیبؔ ایک دوست بھی تھا، ایک استاد بھی اور ایک ایسی سنگت بھی جو انسان کو بدل دیتی ہے۔ وہ آج بھی زندہ ہے سوچ میں، کردار میں اور ہر اس قدم میں جو حق، شعور اور وطن کے لیے اٹھایا جاتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































